BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 April, 2004, 15:20 GMT 20:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میری زندگی: اسرائیلی فوج میں سروِس کے بعد
کرین گوڈکر
کرین گوڈکر
کرین گوڈکر کی عمر انیس سال ہے، انہوں نے حال ہی میں اسرائیلی فوج میں لازمی خدمت پوری کی ہے۔ وہ اسرائیل کے جنوبی شہر بیرشیوا سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے ہمارے نمائندے ہریندر مشرا سے بات چیت کی:

’فوج سے چند ماہ قبل واپسی کے بعد اب میں اتنی خوفزدہ نہیں ہوں۔ میں فوج میں کمانڈرس کورس کی ایک سرجنٹ تھی اور میری ذمہ داری تھی کہ میں فوجیوں کی تعطیلات، ان کے شناختی پاس، ان کی شکایات اور ان کی ڈیوٹی کے متعلق روزمرّہ کے مسائل نمٹاؤں۔ مجھے دکھ ہوتا تھا جب میں ان کے چہروں پر اداسی دیکھتی تھی، بالخصوص اس وقت جب انہیں سرحدوں یا پرّخطر مقامات پر ڈیوٹی دی جاتی تھی۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران میرا کوئی دوست تو ہلاک نہیں ہوا لیکن ہماری بٹالیّن میں سے کچھ مارے گئے اور اس وقت پورے کیمپ میں اداسی چھا جاتی تھی۔ میں نے اپنے دوستوں سے اور اپنے والد سے جو فوج میں لیفٹننٹ کرنل تھے، یہ سنا تھا کہ فوج میں خدمت کرنا ایک موج میلہ کا وقت ہے، جہاں دوسروں سے ملنے کے مواقع ملتے ہیں، اور کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن فوج میں ڈیڑھ سال کی سروِس کے بعد میرے خیالات اس کے برعکس ہیں۔

خوف کی فضا
 فوج سے باہر آنے کے بعد بھی خوف تو رہتا ہے۔ ایک دن میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ تل ابیب میں تھی اور ہر وقت میرے ذہن میں یہ خوف تھا کہ کوئی حملہ نہ کردے۔ میں کیفے اور ریستورانوں میں بیٹھے مطمئن نہیں رہ سکتی، وہاں بھی جہاں میں رہتی ہوں اکثر غزہ سے ’قاسم‘ راکٹ آکر ہمارے قریب میں گرتے رہتے ہیں۔ اسرائیلی فلسطینی تنازعے کی وجہ سے ’’خوف کی فضا‘‘ پیدا ہوگئی ہے جس سے میرے لئے نمٹنا مشکل ہے۔
کرین گوڈکر

ہوسکتا ہے کہ مجھے فوج میں خدمت ایک ایسے دور میں کرنی پڑی جب تشدد کا زور تھا، لیکن یہ کسی بھی طرح موج میلہ کا وقت نہیں تھا، نہ ہی دوسروں سے ملنے جلنے اور گپ شپ کرنے کے مواقع تھے، میں اپنے فوجیوں کے بارے میں بری خبر سننے سے خوفزدہ تھی۔ میں کئی شب پریشانی میں گزارتی تھی، رات بھر جاگتی رہتی جب میرے قریبی دوست فوجی ڈیوٹی پر جاتے تھے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں خوش قسمت تھی کیونکہ میری ذمہ داری ایک مینیجر کی تھی اور مجھے پّرخطر مقامات پر ڈیوٹی نہیں کرنی پڑتی تھی۔

فوج سے باہر آنے کے بعد بھی خوف تو رہتا ہے۔ ایک دن میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ تل ابیب میں تھی اور ہر وقت میرے ذہن میں یہ خوف تھا کہ کوئی حملہ نہ کردے۔ میں کیفے اور ریستورانوں میں بیٹھے مطمئن نہیں رہ سکتی، وہاں بھی جہاں میں رہتی ہوں اکثر غزہ سے ’قاسم‘ راکٹ آکر ہمارے قریب میں گرتے رہتے ہیں۔ اسرائیلی فلسطینی تنازعے کی وجہ سے ’’خوف کی فضا‘‘ پیدا ہوگئی ہے جس سے میرے لئے نمٹنا مشکل ہے۔

میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے، کیسے شروع کروں۔ یروشلم کی ہِبریو یونیورسٹی میں داخلہ کرانا چاہتی ہوں لیکن یروشلم میں رہنا جہاں بم پھٹتے رہتے ہیں خطرے سے خالی نہیں۔ بن گوریون یونیورسٹی میں بھی تعلیم حاصل کرسکتی ہوں جہاں عرب طلباء کی تعداد اچھی خاصی ہے کچھ حد تک محفوظ ہے۔ لیکن میں کوئی ایسا کورس کرنا چاہتی ہوں جس میں میری دلچسپی ہو اور دس فیصد بےروزگاری کے اس دور میں اس سے مجھے نوکری مل سکے۔

فلسطینی تحریک مزاحمت انتفادہ کے آغاز سے قبل میں خود کو ایک حد تک محفوظ تصور کرتی تھی۔ زندگی ہمیشہ خطرے میں نہیں تھی، روزگار کے مواقع بھی تھے۔ لیکن حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ ذہنی طور پر پریشانی بڑھ گئی ہے اور فوج میں لازمی خدمت سے پریشانی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

اس سب کے باوجود میں مثبت سوچ رکھنا چاہتی ہوں۔ امید کرتی ہوں حالات بہتر ہوجائیں گے۔ مجھے نہیں لگتا کہ حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہوسکتے ہیں۔ میرے والد بہت حد تک دائیں بازو کے خیالات کے حامی ہیں اور کئی برسوں سے مجھے ان کے موقف پر ترس آتا تھا، لیکن حالیہ تجربات کی وجہ سے اب میں ان سے قریب تر ہوگئی ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہم اس زمین پر رہیں جسے وہ اپنا کہتے ہیں۔ ایک ہی آسان راستہ یہ لگتا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینیوں کے لئے الگ الگ ریاستیں ہوں۔

چاہے میرے لئے یہ بات کہنا کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو لیکن میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ مسئلے کا جو بھی حل ہو اس میں عربوں کو اسرائیل میں رہنے کا حق ضرور ہونا چاہئے۔ یہ ایک طرح سے میری سوچ میں تبدیلی ہے کیونکہ اگر وہ اسرائیل میں رہتے ہیں تو مسائل بھی برقرار رہیں گے۔ ان کی آبادی زیادہ ہے اور اگر وہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں تو روزگار اور دیگر اقتصادی فوائد انہیں ملے گے۔

مستقبل کے راستے
 میں اس بات سے واقف ہوں کہ فلسطینی بھی مصیبت میں ہیں لیکن وہ اس کے خود ذمہ دار ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے دو اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ کافی ظالمانہ سلوک کیا، بالخصوص ایسے وقت میں جب حالات بہتر ہورہے تھے اور لوگ فلسطینی علاقوں تک آنا جانا شروع ہوگئے تھے اور ان کی معیشت بہتر ہورہی تھی، انتفادہ سے پہلے۔ لیکن انہوں نے دوسرا ہی راستہ چنا۔
کرین گوڈکر

حالیہ دنوں میں مشکلات کی وجہ سے میں ایک ایسے موقف کا شکار ہوں جس کے بارے میں میں سوچ نہیں سکتی۔ آج اگر اسرائیل میں الیکشن ہو تو میں دائیں بازو کی لیکوڈ پارٹی کو ووٹ دوں، وزیراعظم ایریئل شیرون کی وجہ سے نہیں، بلکہ نیتانیاہو کی وجہ سے کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کریں گے۔ میں اپنی زندگی بلاخوف کے جینا چاہتی ہوں اور مجھے جو شخص اس بات کا یقین دلادے گا میں اس کے حمایت کروں گی۔

میں اس بات سے واقف ہوں کہ فلسطینی بھی مصیبت میں ہیں لیکن وہ اس کے خود ذمہ دار ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے دو اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ کافی ظالمانہ سلوک کیا، بالخصوص ایسے وقت میں جب حالات بہتر ہورہے تھے اور لوگ فلسطینی علاقوں تک آنا جانا شروع ہوگئے تھے اور ان کی معیشت بہتر ہورہی تھی، انتفادہ سے پہلے۔ لیکن انہوں نے دوسرا ہی راستہ چنا۔

وہ چاہتے تو اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے ایک خوشگوار مستقبل چن سکتے تھے اور ہمارے ساتھ امن کے ساتھ رہ سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ سمجھا جائے کہ حالیہ تشدد کیسے شروع ہوا۔

(رملہ میں جو) انہوں نے ہمارے دو فوجیوں کے ساتھ (لِنچِنگ) ظالمانہ سلوک کیا، فلسطینی پولیس کی نظروں کے سامنے کیا جنہوں نے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ دونوں فوجی وہاں ڈیوٹی پر نہیں تھے۔ متعدد اسرائیلی نوجوان رملہ جایا کرتے تھے کیونکہ وہاں ریستوراں سستے ہیں، اس سے ان کی معیشت بھی بہتر ہورہی تھی، ان میں بعض کو اسرائیل میں روزگار بھی ملا۔ مجھے نہیں لگتا کہ تشدد کا راستہ اختیار کی کوئی ضرورت تھی۔

اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کیے جارہے تھے، لیکن فلسطینی انتظامیہ میں بدعنوانیوں اور کرپشن کو چھِپانے کے لئے انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا تاکہ لوگوں کی نظر ہٹائی جاسکے۔ اب دونوں فریق مصیبت میں ہیں۔‘

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد