میری زندگی: تشدد، سیاست اور فلسطینی نوجوان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہر کامل ابو ھِلو کی عمر انیس سال ہے، ان کا تعلق حِجمہ شہر سے ہے جو فلسطینی انتظامیہ کے زیر انتظام ہے۔ انہوں نے ہمارے نمائندے ہریندر مشرا سے بات چیت کی: ’میرا تعلق ایسی فیملی سے ہے جس میں سترہ افراد ہیں: میں، میرے آٹھ بھائی، چھ بہنیں اور والدین۔ اسرائیل کی جانب سے میں ہماری نقل و حرکت پر عائد کی جانیوالی پابندی سے پہلے میں یروشلم میں ایک سبزی فروخت کے دکان پر کام کررہا تھا، اب میری نوکری چلی گئی۔ پہلے ہماری فیملی میں کام کرنے والے تین افراد تھے، سبھی یروشلم میں کام کرتے تھے۔ اس کے علاوہ گاؤں میں ہماری مرغی کے گوشت کی دکان تھی۔ اب ہمارے پاس صرف ایک دکان بچ گئی ہے جہاں خریدار بھی مشکل سے ہی آتے ہیں۔ معاشی حالات خراب ہونے سے گھر میں تناؤ بھی ہے۔ اسرائیلی ہم سبھی لوگوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرتے ہیں، لیکن یہاں سب کو معلوم ہے کہ ان کے چھوٹے چھوٹے جو بھی کام ہیں وہ ہم فلسطینی ہی کرتے ہیں۔ کتنے یہودی ہیں جو تعمیراتی کام کرنا چاہتے ہیں؟ ان کے بیشتر مکانات ہم نے تعمیر کیے ہیں اور وہ ہمیں اجتماعی طور پر سزا دے رہے ہیں۔ معاشی مشکلات تو ہیں ہی، وہ روزانہ ہماری تذلیل بھی کررہے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
ہر روز وہ ہمارے گاؤں میں داخل ہوتے ہیں اور گھروں پر چھاپے مارتے ہیں، شدت پسندوں کی تلاش کے بہانے۔ ہماری عورتوں کے ساتھ بدسلوکی ہوتی ہے۔ آپ کیوں امید کرتے ہیں کہ ہم خاموش بیٹھے رہیں؟ ایسے ہی ایک بار جب اسرائیلی فوجی ہمارے گاؤں میں داخل ہوئے تو میں ان نوجوانوں میں شامل ہوگیا جو فوجیوں پر پتھر پھینک رہے تھے، مجھے گرفتار کرلیا گیا۔ مجھے ایک سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔ آج میں یہ ضرور کہوں گا کہ ہمارے دل میں، ہماری مصیبت کی وجہ سے، اسرائیل کے خلاف ایک نفرت ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنے ملک میں روزگار دیں یا نہ دیں ان کا حق ہے لیکن انہیں ہماری تذلیل کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ جان بوجھ کر کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے حوصلے پست کردیے جائیں۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ایسے برے حالات میں ہمارے نوجوانوں کی اکثریت نے ہتھیار اٹھالی ہیں۔ چونکہ میری فیملی میں سترہ افراد ہیں، میری خواہش صرف اتنی ہی ہے کہ میں کچھ پیسے کماسکوں، کسی دن میری شادی ہوجائے، اور میرا ایک مکان ہو۔ میں نے کئی برس پہلے اپنی تعلیم چھوڑ دی تھی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں، میں اپنی فیملی میں سب سے بڑا ہوں۔ آپ یہ بھی یاد رکھئے کہ یہ وہ نسل نہیں ہے جو خاندان کی مدد کے بارے میں سوچتی ہے۔ میری نسل کے نوجوان بڑی فیملی کے نقصانات سے واقف ہیں، اور میں وہی غلطیاں نہیں کروں گا جو میرے والدین نے کی ہیں۔ موجودہ حالات میں میرے پاس روزگار تو ہے نہیں، روزگار کی امید بھی نہیں دکھائی دیتی۔ اسرائیل نے ہمارے بنیادی حقوق چھین لیے ہیں، ہم پر ایک طرح سے مستقل کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ میں اپنے گاؤں سے فلسطینی انتظامیہ کے دوسرے گاؤں تک نہیں جاسکتا، جہاں مجھے روزگار کی تھوڑی امید ہے۔ رملہ میں میں اپنے رشتہ داروں سے مل نہیں سکتا۔ ایسا کرنے کے لئے مجھے پہاڑیوں میں ٹیڑھے میڑھے راستوں سے گزرنا ہوگا اور اس میں گھنٹوں صرف ہونگے۔ حال ہی میں میں بیمار تھا جس کی وجہ سے لمبے سفر کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہمیں اس بات کی بھی اجازت نہیں ہے کہ ہم طبی معائنے کے لئے گاؤں سے باہر جائیں۔ اس کے لئے فوجیوں سے اجازت لینی پڑتی ہے جسے ملنے میں عرصہ لگتا ہے۔ اس تنازعے کی وجہ سے میری زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ میں ناامید ہوگیا ہوں اور میرے اندر اس بات کا احساس ہے کہ میری قسمت کے لئے اسرائیل ذمہ دار ہے، دوسرا کوئی نہیں۔ اسرائیلیوں کے دعوے کو تاریخ کے پس منظر میں دیکھنا چاہئے، انہوں نے ہماری زمین چھین لی ہے۔ ان کے مکانوں کو دیکھئے، یہ سبھی لال رنگ کی عمارتیں، کس کو نہیں معلوم کہ یہ ہم سے چھینی گئی ہیں؟
آج کل حالات خراب تر ہی ہوتے جارہے ہیں۔ وزیراعظم ایریئل شیرون پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔میرے خیال میں ان کے لوگ بھی ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ انہیں اس بات کے لئے جانا جاتا ہے کہ وہ کہتے کچھ اور ہیں، اور کرتے کچھ اور۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ وہ ہماری زمین کا ایک ٹکڑا بھی ہمیں دینگے۔ شیرون ہی تو یہودی بستیاں بسانے کے منصوبہ ساز ہیں۔ حالات بدلنے کے لئے ایک بین الاقوامی پیش قدمی کی ضرورت ہے۔ ہمارے نوجوان اسرائیل کے اشتعال کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ اور ہاں، اس مسئلے کے حل کے لئے کی جانیوالی کسی پیش قدمی میں امریکہ کی شمولیت نہیں ہونی چاہئے۔ امریکہ ہمارے خلاف جانبدارانہ رویہ رکھتا ہے۔ ہم لوگوں میں امریکہ پر کسی کا اعتماد نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے کیا جائے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر مسائل پیدا کررہا ہے کیونکہ وہ امن کا قیام نہیں چاہتا۔ تمام وعدوں کے باوجود وہ اس بات کا اعتراف نہیں کرسکتے کہ انہیں ہماری زمین چھوڑ دینی چاہئے۔ میں مایوس ہوگیا ہوں۔ مجھے نہیں لگتا یہ سب کیسے ختم ہوگا لیکن مستقبل قریب میں مجھے اس کا حل نظر نہیں آتا۔ اس مسئلہ کا جو بھی حل ہو اس انیس سو سڑسٹھ سے قبل کے سرحد پر مبنی ہونی چاہئے۔ اسرائیل کو غزہ کی پٹی اور غرب اردن سے مکمل طور پر واپس ہونا ہوگا۔ اسرائیل کو ٹیمپّل مائنٹ یعنی ہیکل سلیمانی پر کنٹرول چھوڑنا ہوگا۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ کوئی بھی اس بات پر متفق ہوگا کہ ہیکل سلیمانی پر مشترکہ کنٹرول ہو۔ ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیلی فوجیوں پر پتھر پھینکنے کے بعد ایک سال جیل میں میرے ساتھ جو سلوک ہوا اس کی وجہ سے میرے اندر غصہ بھرا ہوا ہے۔ وہ ہمارے نوجوانوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسا بدترین مجرموں کے ساتھ بھی وہ نہیں کرتے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||