| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الف لیلوی بغداد کہاں ہے؟
عمر رازق بی بی سی عربی کے عراق کے نامہ نگار ہیں۔ وہ ہمارے قارئین کے لئے بغداد سے اپنی ڈائری لکھ رہے ہیں۔ آپ اس پر اپنی رائے کا اظہار اردو، انگریزی یا رومن اردو میں کر سکتے ہیں۔ جمعرات، نو دسمبر دو ہزار تین عراق میں لوگ خانہ جنگی کے آسیب سے مسلسل لرزاں رہتے ہیں اور اس کے بارے میں سرگوشیوں میں بات کرتے ہیں۔ المصطفیٰ مسجد کے باہر، جسے آج صبح میزائیلوں کا نشانہ بنایا گیا، لوگ باہر کھڑے کہہ رہے تھے کہ ’شیعہ اور سنی، ہم دونوں ایک ہیں اور یہ تخریب کاروں کا کام ہے‘۔ مسجد کے صحن میں گھومنے والے زیادہ تر محافظ بہت کم عمر ہیں اور ان کے پاس مشین گنیں ہیں۔ مجھے ایک بھی امریکی فوجی یا عراقی پولیس کا سپاہی نہیں دکھائی دیا۔ مسجد کا امام دھمکیوں پر اتر آیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ’ایک سنی مسجد پر حملہ بذاتِ خود سرخ لکیر کی حد پار کرنے کے مترادف ہے۔ یہ مسجد بغداد کے الحریۃ یا ’آزادی‘ نامی مضافات میں واقع ہے جو ایک غریب علاقہ ہے۔ یہاں کے مکینوں کو سیاست سے کچھ خاص سروکار نہیں اور ان کے لئے تحفظ اور سلامتی سب سے اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے جن سکولوں میں پڑھنے جاتے ہیں وہ مسجد کے بہت قریب واقع ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی میزائل بھٹک کر کسی سکول پر جا لگتا تو کیا ہوتا؟۔۔۔۔۔ آٹھ دسمبر دو ہزار تین عراقی اخبارات میں مستقل صدام حسین کے انجام پر چہ مگوئیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایک اخبار کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل فرار ہونے کا ایک خفیہ منصوبہ بنا رکھا ہے۔ ایک اخبار کا کہنا ہے کہ وہ دراصل شہداء چوک کی ایک خندق میں چھپا ہوا ہے جو بغداد کا ایک بہت بڑا چوک ہے اور جہاں امریکی افواج بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
ایک عراقی قبیلے کے سردار کا کہنا ہے کہ وہ زندہ ہے اور ٹھیک ٹھاک ہے اور کہیں مغربی عراق میں سے امریکی فوجوں کے خلاف مزاحمت کی قیادت کر رہا ہے۔ عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل ریکارڈو سانچیز کا کہنا ہے کہ ’بھوسے کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈھنا صدام حسین کو ڈھونڈھنے سے زیادہ آسان ہے۔ بدقسمتی سے ہم ابھی تک صحیح ڈھیر بھی نہیں ڈھونڈھ پائے۔‘ میں نے آج ایک عراقی پروفیسر سے اعتراف کیا کہ مجھے بالکل سمجھ میں نہیں آرہا عراق میں کیا ہو رہا ہے۔ اس نے کہا ’پہلے ہمیں تو سمجھ آجائے۔‘
کیا اسے قتل کر دیا گیا؟ کیا وہ پکڑا گیا؟ سابق نائب صدر عزت ابراہیم الدوری کی گرفتاری پر عراق بھر میں پھیلی افواہوں پر شکوک و شبہات کی کیفیت ہے۔ زیادہ تر عراقی ہر چیز پر شک کرتے ہیں۔ وہ امریکیوں کے عزائم اور صدام اور اس کے قریبی ساتھیوں کے انجام پر شک میں ہیں۔ وہ عبوری انتظامی کونسل کے عزائم پر شک کرتے ہیں گویا وہ ہر چیز پر شک میں مبتلا ہیں۔ حتیٰ کہ اس جمہوریت میں عراقی صحافی بھی امریکیوں پر شک کرتے ہیں۔ انہوں نے کانگریس سے تعلق رکھنے والے دو امریکی ارکان کی ایک پریس کانفرنس کو بھی جلد ہی دھینگا مشتی میں بدل دیا۔ ’پیسے کہاں ہیں؟‘ ’انتخابات کب ہوں گے؟‘ ’بجلی کدھر گئی؟‘ وغیرہ وغیرہ ابھی تک میرے ساتھ کوئی برا واقعہ پیش نہیں آیا۔ شاید اس لئے کہ مستقل اپنے عراقی ساتھیوں کے ساتھ رہتا ہوں یا جلد ان حالات کے مطابق ڈھلتا جا رہا ہوں۔
بغداد میں میری پہلی رات نہ تو الف لیلوی تھی اور نہ ان راتوں جیسی جس کے قصیدے قدیم شعراء پڑھتے آئے ہیں۔ میں بصرہ، العمارہ اور ال کت کے شہروں سے گزرتا ہوا جب بغداد کے مضافات میں پہنچا تو عرب دنیا کے اس قدیم اور بڑے دارالحکومت کا انتشار دیکھ کر حواس باختہ ہوگیا۔ یہاں کی غربت ملک کی دولت کے عمومی تصور سے بالکل متضاد ہے۔ یہاں تک کہ نیوکلیئر پلانٹ کے لوٹ مار سے حاصل کی گئی خطرناک اشیاء کو بھی لوگ روزمرہ کی ضرورتوں میں استعمال کئے چلے جا رہے ہیں۔
پلانٹ کے ساتھ کے فوجی کیمپ کی بچی کھچی چار دیواری پر، جو کسی زمانے میں عراق کا سب سے بڑا فوجی کیمپ تھا، لکھے جانے والے نعروں میں جہاں ’صدام اور بعث کے متوالوں کے لیے موت‘ جیسے پیغامات ہیں وہیں یہ ’صدام زندہ باد‘ کے نعروں سے بھی بھری ہے۔ پچاس ڈالر یومیہ پر ملنے والے کمرے کے بارے میں میری مالکن کا دعویٰ تھا کہ یہ یہاں کا بہترین کمرہ ہے۔ اس کے بستر پر کوئی چادریں نہیں تھیں اور جہاں کبھی ایک ایئر کنڈیشنر ہوا کرتا تھا، اب ایک بڑا سا سوراخ ہے جس سے رات بھر سرد ہوا مجھے منجمد کرتی رہی۔ باتھ روم میں روشنی نہیں تھی لیکن اس سے بدتر یہ تھا کہ صبح اس میں پانی بھی نہیں تھا۔ دو دنوں سے میں جس غسل کے لئے ترس رہا تھا وہ ناممکن ہو چکا تھا۔ میں نے زیرِلب غصے میں کچھ کہا اور پھر اس لائن میں لگ گیا جو اس واحد باتھ روم کے سامنے بنی تھی جس میں پانی آرہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||