میں تنہائی میں کر رہا تھا، پرندوں سے باتیں میں یہ کہہ رہا تھا: پرندو نئی حمد گاؤ کہ وہ بول جو اک زمانے میں بھنوروں کی بانہوں پہ اڑتے ہوئے باغ کے آخری موسموں تک پہنچتے تھے اب راستوں میں جھلسنے لگے ہیں نئی حمد گاؤ پرندے لگاتار، لیکن - - - پرندے ہمیشہ سے اپنے ہی عاشق سراسر وہی آسماں چیختے تھے! میں یہ کہہ رہا تھا: درختو ہواؤں کو تم کھیل جانو، تو جانو مگر ہم نہیں جانتے بوڑھے سبزوں کی دعوت کو جاتے ہوئے ذہن کے رہگزاروں میں کیسے نئے دن کی درزیدہ آہٹ کبھی سن سکیں گے؟ نہیں صرف پتھر ہی بے غم ہے پتھر کی نا تشنگی پر درختو، ہوا کتنی تیزی سے گذری تمہارے برہنہ بدن سے کہ اس میں روایات سرگوشیاں کر رہی تھیں درختو، بھلا کس لئے نام اپنا، کئی بار دہرا رہے ہو؟ یہ شیشم یہ شم شی یہ شی شی ی ی ی - - - مگر تم کبھی شی ی ی ر --------- بھی کہہ سکو گے؟ میں یہ کہہ رہا تھا - - - ن م راشد |