’میرے بھی کچھ خواب ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نازیہ بشیر اسلام آباد میں ایک پٹرول پمپ پر کام کرتی ہیں۔ وہ ان چند باہمت لڑکیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ایک ایسے شعبے کا انتخاب کیا جس پر ہمیشہ مردوں کی حکمرانی رہی ہے۔ آپ کی آواز کے صفحے کے لیے انہوں نے اپنی کہانی محمد اشتیاق کو سنائی۔ اگر آپ بھی اپنی کہانی ہمیں سنانا چاہیں تو لکھ بھیجیں۔ میرا نام نازیہ بشیر ہے اور میری عمر تیئیس سال ہے۔ میں پرائیویٹ طالب علم کی حیثیت سےگریجویشن (بی اے) کر رہی ہوں۔ اس فلنگ سٹیشن پر کام کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹے سے پرائیوٹ سکول میں پڑھاتی تھی۔ میری خواہش تو تھی کہ میں پڑھاتی رہتی اور ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھتی کیونکہ ٹیچنگ کو بہت قابل احترام سمجھا جاتا ہے لیکن مجھے اس سے تنخواہ بس برائے نام ہی ملتی تھی۔ بڑی مشکل سے ہمارے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ میری تین بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ وہ سب شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔ میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہوں اور میری ملازمت ہی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔ کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود میری یہ کوشش تھی کہ کوئی ایسا کام کروں جو کچھ نیا سا ہو، ظاہر سی بات ہے کہ ہر ایک کے خواب ہوتے ہیں اور میرے بھی کچھ خواب تھے بلکہ اب بھی ہیں۔ پھر میں نے ایک دن اخبار میں ایک اشتہار پڑھا کہ ایک خاتون کی فلنگ شٹیشن پر ضرورت ہے۔ اس سے پہلے میں نے کسی فلنگ سٹیشن پر کسی خاتون کو کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا اس لیے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ ملازمت کے لیے درخواست دینے سے پہلے میں نے اپنے والد سے مشورہ کیا تو انہوں نے میری ہمت بندھائی جس سے مجھے کچھ حوصلہ ہوا۔ انٹرویو کے بعد مجھے یہ ملازمت مل گئی۔ پہلے کچھ دن تو عجیب لگا کیونکہ یہ ایک مختلف دنیا تھی اور میری گاڑیوں کے بارے میں معلومات بھی بہت کم تھیں لیکن اب میں نے سب کاموں کو سمجھ لیا ہے اور اب میں یہاں سارے کام کر لیتی ہوں۔
میں گاڑیوں میں پٹرول بھی بھرتی ہوں، اُنکے شیشے بھی صاف کرتی ہوں، کیش بھی وصول کرتی ہوں اور جو کام کہا جائے اُس کے لیے تیار رہتی ہوں۔ مجھے یہاں کام کرتے ہوئے تقریباً پانچ ماہ ہو گئے ہیں لیکن کبھی کوئی مشکل نہیں ہوئی اور اسی کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ اسلام آباد کے زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے ہیں اور اکثر غیر ملکی بھی ہمارے فلنگ سٹیشن پر آتے ہیں۔ کبھی کسی نے مجھے حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ مجھے میری پڑھائی کا بہت فائدہ ہوا۔ اکثر غیر ملکی لوگ جو یہاں آتے ہیں، مجھے اُن سے انگریزی میں بات کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی اور میں تو یہ کہوں گی کہ میں اس طرح مزید انگریزی سیکھ رہی ہوں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد میں گاڑیاں چلاتی ہے اور اُن میں سے کافی تعداد میں خواتین اپنی گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانے یا اپنی گاڑی دھلوانے کے لیے یہاں آتی ہیں۔ عورت ہونے کی وجہ سے اُنکو مجھے سے بات جیت کرنے میں آسانی رہتی ہے اور وہ اپنی شکایات بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مجھ سے بیان کر دیتی ہیں جو شاید اُن کے لیے ایک مرد سٹاف کو بتانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اس طرح میں اپنی انتظامیہ کو خواتین کی شکایات سے آگاہ کرتی رہتی ہوں۔ میں یہاں صبح نو بجے سے لے کر شام پانچ بجے تک کام کرتی ہوں اور اللہ کا شکر ہے کہ مجھے اتنے پیسے مل جاتے ہیں کہ نہ صرف میرے اور میرے ماں باپ کے اخراجات پورے ہو رہے ہیں بلکہ میں نے اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ میں نے جو کچھ اس ملازمت کے دوران سکیھا ہے وہ میرے لیے بہت اہم ہے۔دنیا کا کوئی بھی کام انسان کو آگے بڑھنے سے نہیں روکتا، میں یہاں کام کرنے والے مردوں میں واحد عورت ہونے کے باوجود کبھی کسی کمپلکس کا شکار نہیں ہوئی، اور ان سب کامیابیوں کے پیچھے میرے والد کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اُن کی اجازت کے بغیر یہ سب کچھ میرے لیے ناممکن تھا۔ فلنگ سٹیشن پر کام کرنے کے باوجود میری آگے بڑھنے کی کوشش جاری ہے اور میں دوسروں کے لیے ایک مثال بننا چاہتی ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||