روشنی ڈاکٹر کیوں نہ بن سکی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن اب دن کے بارہ گھنٹے قالین کی کھڈی پر کام کرتی ہوں۔ میرے ماں باپ پر زمیندار کا قرضہ ہے جو وہ اکیلےنہیں ادا کر سکتے تھے۔ ہم تین بہن بھائی ہیں۔ میں بڑی ہوں دو مجھ سے چھوٹے ہیں۔ پہلے میں اسکول جایا کرتی تھی مگر اس قرضے کے چکر میں ماں باپ نے کہا کہ ہم تجھے اور پڑھا نہیں سکتے اور اب سے اس کھڈی پر بیٹھنا ہوگا، کام کرنا ہوگا۔ پہلے مجھے گرمی کی تپتی دوپہروں میں کھڈی پر کام کرنا اچھا نہیں لگتا تھا پر اب عادت سی ہو گئی ہے۔ شاید اس لئے بھی کہ آٹھ ماہ ہو گئے ہیں۔ شروع میں گھر سے صبح صبح نکل کر آنا برا لگتا تھا لیکن اب میرے یہاں کچھ دوست بن گئے ہیں۔ یہ سلیمت ہے جو میری طرح اپنے گھر سے سات بجے یہاں پہنچ جاتی ہے۔ سلیمت کے والدین بھی میرے ماں باپ کی طرح زمیندار کے قرضے میں جکڑے ہیں۔ اس کا باپ مرے باپ کی طرح کھیتوں میں کام کرتا ہے۔ اکیلے تو کوئی قرضہ ادا نہیں کر سکتا ناں۔ اسکی ماں بھی میری ماں کی طرح گھر پر کڑھائی کا کام کرتی ہے اور یہ یہاں کھڈی پر آکر۔ میرے گھر میں ہم کل پانچ لوگ ہیں سبھی کے کھانے کا خرچہ ہوتا ہے روز کا خرچہ ہوتا ہے اور روز کا خرچہ پورا کرنا بہت مشکل ہے۔
مجھے یہاں روز کے چالیس روپے ملتے ہیں میں کچھ بچانا بھی چاہتی ہوں پر بچتا کہاں ہے۔ کبھی کچھ کبھی کچھ، سب خرچ ہوجاتا ہے۔ کبھی بیس تیس ہو بھی جائیں تو کبھی ماں کو، تو کبھی باپ کں ضرورت پڑ جاتی ہے اور پھر میری گولک خالی۔ اب تو مجھے قالین بنانے کا کام اچھا لگتا ہے۔ ہاں پہلے پہلے میرے ہاتھ دکھتے تھے اور ہم تھک بھی جاتے تھے۔ ویسے تو سارے رنگ کے دھاگے اچھے ہوتے ہیں پر مجھے سب سے اچھا چٹا والا اور ہرا رنگ لگانا لگتا ہے۔ اچھا اب کام کرتی ہوں پیسے جمع ہو گئے تو چھوٹے بھائی کو ڈاکٹر بناؤں گی۔ نوٹ: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||