ایسا لگتا ہے یہ ’ابھی بم گرائے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج سے تقریباً اکیس سال قبل کا واقعہ ہےشام کا وقت تھا میرا خاوند اور جواں سال بیٹا کھیتوں میں کام کرکے واپس گھر آرہے تھے کہ ہمارے گا ؤں کوٹ پر، جوافغانستان کے صوبہ ننگرہار کا ایک ضلع ہے، چھ روسی طیاروں نے بمباری کردی۔ میرا خاوند اور بیٹا دونوں شہید ہوگئے۔ میرے خاوند کے ایک چچا زاد بھائی اور گا ؤں کے دوسرے چار افراد بھی روسی طیاروں کا نشانہ بن گئے۔ اس واقعہ کے بعد میں ذہنی توازن کھو بیٹھی اور کئی سالوں تک بیمار رہی۔ اب بھی میں فضا میں اڑتےہوئے جہاز دیکھتی ہوں تو بھاگ کر کمرے کے اندر چلی جاتی ہوں۔ جہاز دیکھ کر مجھ پر خوف کی کیفیت طاری ہوجاتی اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ’ابھی بم گرائے گا‘۔ روسی طیاروں کی خوف ناک آوازیں آج بھی کبھی کبھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں۔ خاوند اور جوان بیٹے کی موت نے ہمیں ہجرت پر مجبور کردیا اورہم پاکستان آگئے۔ پشاور میں ہم تقریباً اکیس سال سے بحثیت مہاجر رہ رہے ہیں۔ 1996 میں جب طالبان کی حکومت بنی تو ہم دوبارہ اپنے ملک افغابستان چلے گئے۔ تین چار سال تو اچھے گزر گئے لیکن جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو ہم نے ایک دفعہ پھر پڑوسی ملک پاکستان کا رخ کیا اور خیبر ایجنسی کے دور افتادہ علاقہ شلمان مہاجر کیمپ میں آکر ڈیرے ڈال دیئے۔ اس کیمپ میں سارے پختون قبیلوں سے تعلق رکھنے والے مہاجر رہتے ہیں۔ یہاں پر ہم دو سالوں سے رہ رہے ہیں۔ مہاجرین کی بھی کیا زندگی ہوتی ہیں۔ ہم نو افراد ایک چھوٹے سےکچے کمرے میں رہ رہے ہیں جن میں میرا ایک بیٹا اسکی بیوی، بچے اور بیٹیاں بھی مقیم ہیں۔ خاوند کی شہادت کے بعد دیور سے میرا نکاح ہوا جس سے میرے دو بیٹے بھی پیدا ہوئے لیکن اب وہ ہمیں چھوڑ کر افغانستان چلا گیا ہے اور اپنی پہلی بیوی کیساتھ رہ رہا ہے جبکہ میں اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ رہتی ہوں۔ اب یہی میرا ایک سہارا رہ گیا ہے- میرے تین بیٹے اور دو بیٹیاں بھی ہیں۔ افغانستان میں حالات ابھی مکمل طورپر تسلی بخش نہیں ہوئے ہیں لیکن ہمارا علاقہ کوٹ جو پاک افغان سرحد کے نزدیک واقع ہے نسبتاً بہتر ہے اور ویسے بھی یو این ایچ سی آر والے شلمان کیمپ خالی کرارہے ہیں۔ ایک امید کی کرن یہ بھی ہے کہ ہو سکتا ہے موجودہ افغان حکومت حالات معمول پر لے آئے۔ ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنے وطن واپس جارہے ہیں۔ اللہ تعالی سے یہی دعا ہے کہ افغانستان میں حالات بہتر ہوجائیں امن قائم ہو اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں تاکہ پاکستان میں مقیم تمام افغان مہاجرین اپنے ملک خوشی سے واپس چلے جائیں۔ طالبان کے حکومت میں امن وامان کی حالت بہتر تھی اور لوگوں کے جان ومال بھی محفوظ تھے لیکن روزگار کے مواقع بہت کم تھے اور خشک سالی بھی تھی۔ جنگ کے علاوہ زیادہ تر لوگ بے روزگاری اور شدید خشک سالی کی وجہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ موجودہ افغان حکومت کے آنے سے کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں تو نہیں آرہی کیونکہ اس طرح کی اطلاعات مل رہی ہیں کہ پس ماندہ علاقوں میں بدستور قتل ہورہے ہیں، ڈاکے پڑ رہے ہیں، لوگوں کو لوٹا جارہا ہے، غرض ایک غیر یقینی کی سی صورتحال ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ ہوسکتا ہے وہاں پر حالات بہتر ہوجائیں لیکن اگر خدا نخواستہ حالات ٹھیک نہیں ہوئے تو مجبوراً واپس پاکستان آنا پڑے گا۔ کون چاہتا ہے کہ اپنا ملک چھوڑے اور ایک گمنام زندگی گزارے لیکن مجبوری بہت بری شے ہے اورہم نے ہربار مجبور ہوکر ہجرت کی ہے۔ شلمان کیمپ بندکرنے سے پہلے یہاں پر مقیم تمام مہاجرین کو کہاگیا تھا کہ وہ یا تو کوٹکی باجوڑایجنسی میں قائم کیمپ میں چلے جائیں یا نقل مکانی کرکے افغانستان چلے جائیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد باجوڑ سے بھی نکالیں گے اس لئے بہتر یہی ہے کہ اپنے وطن واپس چلے جائیں۔ افغانستان میں ہمارا ابھی کوئی اپنا گھر نہیں لیکن زمینیں ہیں۔ وہاں جاکر پتہ چلے گا کہ کیا صورتِ حال ہے۔ کچھ عرصہ کے لیے خیموں میں رہنا پڑے گا یا رشتہ داروں کے ہاں۔ ہمارے پاس فوری طور پر اتنے پیسے بھی نہیں کہ وہاں پہنچتے ہی گھروں اور عمارات کی تعمیر شروع کردیں۔ ہم نے آدھی سے زیادہ زندگی مسائل اور مشکلات میں گزاری۔ مہاجرین کی زندگی میں مسائل کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ بس یہی امید ہے کہ ابھی بھی اگر ہمارے ملک کے حالات ٹھیک ہوجاتے ہیں تو کم ازکم باقی زندگی تو سکون سے گزر جائی گی۔ زندگی میں یہی خواہش ہے کہ ایک چھوٹا سا گھر ہو لیکن اپنا اور اپنے پیارے ملک افغانستان میں اور وہاں امن ہو۔ ساری زندگی اتنی جنگیں اور لڑائیاں دیکھی ہیں کہ فائر کی آواز سن کر جان نکلتی ہے۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ افغانیوں سے کیا غلطی سرزد ہوئی کہ گزشتہ پچیس سالوں سے دربدر ہیں۔ نوٹ: گل حارامہ نے یہ گفتگو شلمان مہاجر کیمپ، خیبر ایجنسی میں ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ اگر آپ بھی اپنی کہانی ان صفحات پر سنانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||