BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 April, 2004, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نرگس کاکڑ -- گیارہ سالہ افغان اتھلیٹ

نرگس کاکڑ، گیارہ سالہ افغان اتھلیٹ
نرگس کاکڑ، گیارہ سالہ افغان اتھلیٹ
گیارہ سالہ نرگس کاکڑ افغانستان سے سیف گیمز میں شمولیت کے لئے آئے ہوئے کھلاڑیوں میں سب سے کم سن کھلاڑی تھیں، اُن کا یہ تجربہ کیسا رہا:

’’آج سے تین برس پہلے تک میرا گھر ہی میرے لئے سب کچھ تھا۔ میرا اسکول، میرا کھیل کا میدان اور تفریح کی جگہ سب کچھ میرےگھر کی چار دیواری تھی۔ اور میں اپنے گھر میں ایک قیدی تھی۔ لیکن میرا ملک اب میری اور میری طرح کی تمام بچیوں کے لئے بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اب میں اپنی مرضی سے اپنے شہر میں گھوم پھر سکتی ہوں۔

نئی صبح
 میری بہنوں نے اپنا بچپن، گلیوں میں اپنی سہلیوں کے ساتھ کھیل کر نہیں، اپنے گھر میں بند ہو کر گزارا اور اُنہیں اب جب ہم گھر سے باہر جانے کو کہتے ہیں تو وہ سہم سی جاتی ہیں۔
نرگس کاکڑ

اب میں بڑی ہو رہی ہوں اور جب مجھے میری بڑی بہنیں اپنے بارے میں بتاتی ہیں کہ اُنہوں نے طالبان کے دور میں کیسے وقت گزارا تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں کس قدر خوش نصیب ہوں۔

میری بہنوں نے اپنا بچپن، گلیوں میں اپنی سہلیوں کے ساتھ کھیل کر نہیں، اپنے گھر میں بند ہو کر گزارا اور اُنہیں اب جب ہم گھر سے باہر جانے کو کہتے ہیں تو وہ سہم سی جاتی ہیں۔


اب کابل میں قدرے بہتر ماحول ہے، زندگی کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں۔ اور اسی لئے میں اسلام آباد میں ہوں، سیف گیمز میں اپنے ملک کی نمائندگی کے لئے۔ مجھے بچپن ہی سے کھیلوں میں حصّہ لینے کا شوق تھا لیکن میں یہ نہیں جانتی تھی کہ گھر کے آنگن میں دوڑتے دوڑتے میں سیف گیمز کے ان مقابلوں تک آپہنچوں گی۔

میں نے ان سیف گیمز میں ’سو میڑ‘ ریس میں حصّہ لیا، کوئی میڈل تو میرے حصّہ میں نہیں آیا لیکن میرے لئے سب سے بڑا میڈل آزادی ہے، جو دنیا کی سب بڑی چیز ہے۔ اسی آزادی کے سبب میں اب دنیا دیکھ رہی ہوں اور دنیا مجھے۔

ہمارے ملک میں گراؤنڈز نہیں ہیں اور سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں پھر بھی ایک جذبہ ہے آگے بڑھنے کا اور ہم سب مل کر محنت کریں گے۔

میرا میڈل
 میں نے ان سیف گیمز میں ’سو میڑ‘ ریس میں حصّہ لیا، کوئی میڈل تو میرے حصّہ میں نہیں آیا لیکن میرے لئے سب سے بڑا میڈل آزادی ہے، جو دنیا کی سب بڑی چیز ہے۔ اسی آزادی کے سبب میں اب دنیا دیکھ رہی ہوں اور دنیا مجھے۔
نرگس کاکڑ

زندگی اور رہن سہن کا انداز اب ہمارے ملک میں بدل رہا ہے، میں نےچند برس پہلے اخبار کے ٹکڑے پر ایک بچی کو بغیر سر ڈھانپے دیکھا جس کے بال بہت خوبصورت تھے تو میرے دل خیال آیا کہ کیا میں بھی کبھی اُس لڑکی کی طرح بغیر سر اور منہ کو ڈھانپے اپنےگھر سے باہر آ سکوں گی، لیکن جب اپنے اردگِرد کے ماحول کو دیکھا تو مایوس سی ہو گئی تھی۔ کیونکہ طالبان دورِ حکومت میں اس
بات کا تصّور بھی ناممکن تھا۔

میں نے یہاں پاکستان میں بہت اچھے دن گزارے ہیں، یہاں بچوں کو بہت سہولیات میسر ہیں، ہمارے لئے تو اُن کا تصور بھی ممکن نہیں۔ میرے والدین اور میرا ملک ابھی اس حالت میں نہیں کہ مجھے وہ سب کچھ دے سکیں جو ہم جیسے دوسرے بچوں کے پاس ہے۔ بس میری دُعا ہے کہ ہمیں اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق ملا رہے۔‘


نوٹ: نرگس کاکڑ نے اسلام آباد میں ہمارے نمائندے محمد اشتیاق سے گفتگو کی۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد