BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 April, 2004, 16:36 GMT 21:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جناح سٹیڈیم میں ڈر میرے ساتھ دوڑ رہا تھا

’مجھے کوئی میرا بچپن لُوٹا دے، بغیر ڈر اور خوف والا بچپن‘
’مجھے کوئی میرا بچپن لُوٹا دے، بغیر ڈر اور خوف والا بچپن‘

میں ابھی تک اسلام آباد کا شہر نہیں دیکھ سکی، صرف جناح سٹیڈیم جاتی ہوں ’جہاں کھیلوں کے مقابلے ہو رہے ہیں‘ اور پھر باقی وقت خود کو ہوٹل کے کمرے میں بند کر لیتی ہوں۔ اگر مجھے اس بات کی اجازت بھی ہو کہ میں شہر میں اپنی مرضی سے گھوم سکتی تو شاید وہ خوف جو میرے دل میں بیٹھ چکا ہے مجھے اکیلا باہر نہیں جانے دے گا۔

اپنے ملک سے میرا پہلی بار باہر نکلنا ہوا ہے۔ سیف گیمز میں شرکت کر کے بہت اچھا لگ رہا ہے۔ یہاں اسلام آباد میں بہت چہل پہل ہے اور یہ سب کچھ میرے لیے بالکل نیا ہے۔ میں ان تمام چیزوں کی عادی نہیں ہوں شاید اس لیےسب کچھ عجیب لگ رہا ہے۔

میں ایک اتھلیٹ ہوں اور یہاں اتھلیٹک کے مقابلوں میں حصّہ لے رہی ہوں۔ ہمیں ان کھیلوں کی تیاری کے لیے بہت زیادہ وقت نہیں ملا، ہم نے تمام تر تیاری صرف آٹھ ماہ میں کی۔ میں اپنے ملک کے لیے کوئی اعزاز تو نہیں جیت سکی، بس میرا اعزاز یہ ہے کہ مجھے ان مقابلوں میں حصّہ لینے کا موقع ملا۔

میں جس ماحول میں بڑی ہوئی ہوں، وہ میرے لیے تلخ یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اب جبکہ میں اپنے ملک کی نمائندگی بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں کر رہی ہوں اس بات سے واقف نہیں کہ میں مجھے کس سے کیا بات کرنی ہے۔ میں اپنی ٹیم کے ساتھ آئے ہوئے مینجر کے سوا کسی سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتی۔

یہ جانتے ہوئے بھی کہ میری زندگی کا بہت سا اہم وقت ضائع ہو گیا ہے اور میں ابھی پانچویں جماعت میں پڑھ رہی ہوں، میری خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر بنوں اور ایک ’چیمپین‘ بھی، اور ایک کامیاب اتھلیٹ۔

مجھے دسویں جماعت میں ہونا چاہیے تھا لیکن میں طالبان کے دور حکومت میں سکول نہیں جا سکتی تھی۔ میرے والدین بھی یہ چاہتے تھے کہ میں پڑھوں اور اپنے مقاصد حاصل کروں لیکن اُن کے چاہنے سے بھی کیا ہونا تھا۔ ہمارے پاس صرف گھر کے اندر بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، تمام سکول بند تھے۔

اب میں بہت خوش ہوں کیونکہ حالات بدل رہے ہیں، میں روزانہ سکول جاتی ہوں اور وہاں کھیلوں میں حصّہ بھی لیتی ہوں۔ امید ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور ’کابل‘ میں ایسا ہی سٹیڈیم بن جائے گا جیسا یہاں اسلام آباد میں ہے۔

میرے بچپن کے دن مجھے بہت یاد آتے ہیں جب میں گھر میں چپ چاپ بیٹھی یہ سوچتی رہتی کہ باہر کی دُنیا نہ جانے کیسی ہو گی۔ میرا بہت جی چاہتا کہ میں بھی باہر کی دُنیا دیکھوں۔

جب میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ اپنے گھر میں بھی کھیل رہی ہوتی، تو کھیل میں بھی ڈر ہم پر حاوی رہتا کیونکہ اس بات کا خدشہ ہوتا کہ کہیں ہمارا شور اس قدر نہ بڑھ جائے کہ گھر سے باہر بھی سنائی دینے لگے اور ہمارے لیے مسئلہ بن جائے۔

اب جب میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں جناح سٹیڈیم میں دوڑ رہی تھی اور ہر طرف شور ہی شور تھا تو وہ خوف جو بچپن ہی میں میرے دل میں بیٹھ گیا تھا، میرے ساتھ دوڑ رہا تھا اور میرے اور میری جیت کے درمیان حائل تھا۔

کاش کہ مجھے کوئی میرا بچپن لوٹا دے، بغیر ڈر اور خوف والا بچپن۔


نوٹ: روبینہ مکیم یار نے اسلام آباد میں ہمارے نمائندے محمد اشتیاق سے گفتگو کی۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد