BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 June, 2004, 15:29 GMT 20:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹیبل ٹینس کی ملکہ: نازو شکور
پاکستان کی سابق کھلاڑی نازو شکور کی باتیں
پاکستان کی سابق کھلاڑی نازو شکور کی باتیں
پاکستان میں ٹیبل ٹینس کی تاریخ لکھی جائے تو اس میں نازو شکور کا نام سرفہرست ہو گا۔ انہوں نے پندرہ برس کی عمر میں قومی چمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اپنے بیس برس کے کیرئیر میں انہوں نے ناقابل فراموش کامیابیاں حاصل کیں۔ انیسں سو اکیانوے میں انہیں تمغہِ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔


میرے والدین کا تعلق انبالہ سے ہے۔ میرے والد سید شکور احمد ہاکی کھیلا کرتے تھے۔ تقسیم سے قبل ان کے پاس ہندوستان کا کلر تھا۔ یہ والدین کا اعتماد اور تعاون تھا کہ میں ٹیبل ٹینس میں آگے بڑھ سکی۔

میری بہنیں روبینہ ناخدا اور سیما کلیم اللہ بھی اپنے دور میں ٹیبل ٹینس کی بہترین کھلاڑی تھیں۔ بچپن میں ان کو کھیلتے دیکھ کر ہی مجھے ٹیبل ٹینس کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔

دس یا گیارہ برس کی عمر میں مجھے یونائیٹڈ بینک کی نوکری مل گئی۔مجھے یاد ہے کہ جب مجھے پہلی دفعہ تنخواہ کا دو سو پچھتر روپے کا چیک ملا تو مجھے بہت خوشی ہوئی تھی۔ کچھ عرصے بعد میں نے حبیب بینک میں ملازمت اختیار کر لی تھی۔

اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران میں نے کئی ممالک کے سفر کئے ہیں۔ مجھے مشرق بعید بہت اچھا لگا۔ یہاں کے لوگوں کا مزاج بہت ٹھنڈا ہے۔ بھارت میرا پسندیدہ ملک ہے۔ بھارت میں مجھے بہت عزت ملی، اس لئے وہاں مجھے اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔

ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں لیکن اکثر کھلاڑی یہ شکایت کرتے ہیں کہ فلاں شخص بے ایمانی کر کے کھلاڑی بن گیا۔ افسران کھلاڑیوں کے نام پر بیویوں کو دوسرے ممالک کے دورے پر لے جاتے ہیں۔اگر کوئی کھلاڑی حق کے لئے آواز بلند کرے تو اس کو باہر بٹھا دیا جاتا ہے۔

مجھے غریبوں کی مدد کر کے ذہنی سکون ملتا ہے۔ میں جسمانی طور پر معذور بچوں کے لئے ایک فلاحی ادارہ قائم کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے تعصب سے شدید نفرت ہے۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو اس پر پابندی عائد کر دیتی۔ میں دوغلے قسم کے لوگوں میں کبھی ایڈجسٹ نہیں کر سکتی۔

میں کھانے پینے کی بہت شوقین ہوں خصوصاً میٹھا تو میں چھوڑ ہی نہیں سکتی۔

سچے خواب
 میرے خواب اکثر سچے ثابت ہوتے ہیں۔جو کچھ میرے ساتھ ہونے والا ہوتا ہے وہ مجھے خواب میں دس پندرہ روز قبل نظر آ جاتا ہے۔

میرے خواب اکثر سچے ثابت ہوتے ہیں۔جو کچھ میرے ساتھ ہونے والا ہوتا ہے وہ مجھے خواب میں دس پندرہ روز قبل نظر آ جاتا ہے۔

اللہ تعالی نے مجھے بہت نوازا، عزت، دولت اور شہرت بھی دی۔ میں نے اپنے زمانے میں خوب ٹیبل ٹینس کھیلی لیکن آج بھی ہاتھ میں ریکٹ تھامنے کو دل کرتا ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد