BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 May, 2004, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سفر کچھ آسان نہ تھا‘
پروین خان
فرسٹ وومن بینک کی سینیئر کی وائس پریذیڈینٹ پروین خان
پروین خان پاکستان کے فرسٹ وومن بینک کی سینیئر کی وائس پریذیڈینٹ ہیں اور انہوں نے برس ہا برس کی جدوجہد کے بعد یہ مقام حاصل کیا ہے۔ ’یہ سفر کچھ اتنا آسان نہ تھا‘ وہ کہتی ہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں خواتین اپنے حقوق کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں اور جہاں خواتین کی اہلیت کو تسلیم کرنے میں شاید کچھ زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، پروین خان کا اس مقام تک پہنچنا، اور وہ بھی ایک مختلف شعبے میں، بلاشبہ تمام خواتین کے لیے ایک مثال ہے۔ اپنی اسی جدوجہد کے بارے میں انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی نادیہ اسجد سے بات چیت کی جوکہ پاکستان کی کامیاب خواتین کی کہانیوں کی ایک کڑی ہے۔

’میں یہ تو نہیں کہوں گی کہ مجھے پچپن ہی سے بینکر بننے کا شوق تھا لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس شعبے میں میری دو کزنز کا کیریئر میرے لیے مشعل راہ بنا۔

میری خوش قسمتی کہ میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ بہت پڑھا لکھا اور روشن خیال گھرانہ ہے۔ میرے دادا کی مثال بھی میرے سامنے تھی جو بہت منظم اور اپنے کام کے سلسلے میں بہت پروفیشنل تھے۔ ان کی بہت سی خوبیاں مجھ میں آئی ہیں ( یقیناً خامیاں بھی آئی ہوں گی) ۔ یقیناً آپ کو رستہ دکھانے والے آپ کے سینیئر ہی ہوتے ہیں جن کا تجربہ آپ سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

 میں نے کبھی بھی آگے بڑھنے یا کوئی عہدہ حاصل کرنے کے لیے کسی غلط راستے یا ذریعے کا استعمال نہیں کیا۔

بچپن ہی سے میرے گھر والوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ میں نے اس دور میں تعلیم حاصل کی جب خواتین کی تعلیم پر اتنا زور نہیں تھا۔ ہم چھ بہنیں اور ایک بھائی ہیں اور میرے والد نے ہم سب ہی کو بہترین تعلیم دلوائی۔ ان کے لیے مالی طور پر یہ سب کچھ کرنا اتنا آسان نہ تھا کیونکہ اس کے لیے مالی وسائل کی ضرورت تھی۔ لیکن انہوں نے ہمارے لیے سب کچھ کیا کہ کسی چیز میں کمی نہ رہ جائے۔

تعلیم حاصل کرنے کے بعد میرا ذہن ملازمت کے لیے پوری طرح نہیں بنا تھا۔ پھر ایک دن یونہی میں نے ایک پاکستانی بینک کے لیے اپلائی کردیا۔ مجھے میرٹ پر سلیکٹ کرلیا گیا۔ میں نے کبھی بھی آگے بڑھنے یا کوئی عہدہ حاصل کرنے کے لیے کسی غلط راستے یا ذریعے کا استعمال نہیں کیا۔

 بینکنگ ایک مختلف شعبہ ہے، خاص کر خواتین کے لیے اور میں کچھ مختلف ہی کرنا چاہتی تھی۔ میں کچھ ایسا کرنا چاہتی تھی جس میں میں خود کچھ فیصلےکرسکوں۔

بینکنگ ایک مختلف شعبہ ہے، خاص کر خواتین کے لیے اور میں کچھ مختلف ہی کرنا چاہتی تھی۔ میں کچھ ایسا کرنا چاہتی تھی جس میں میں خود کچھ فیصلےکرسکوں۔ گھر کا بجٹ وغیرہ بھی میرے والد مجھ ہی سے بنوایا کرتے تھے اور تمام مالی امور یا مسائل مجھ سے شیئر کرتے تھے۔

تعلیم کے دوران میں حساب کے مضمون میں زیادہ اچھی نہیں تھی لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ آگے جاکر میں ایسے شعبے میں جاؤں گی جس کی بنیاد ہی ہندسوں کے کھیل پر ہے۔

اپنے کیریئر کا آغاز میں نے سن انیس سو پچھہتر سے مسلم کمرشل بینک سے کیا۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے وہاں سیکشن ڈویژن کی سربراہی کی ہے۔ میرے ماتحت چار زون تھے جن کی میں نگرانی کرتی تھی۔ یہ بہت بڑا امتحان بھی تھا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری مدد کی اور میں نے بہت اچھی طرح اپنے عہدے کو نبھایا۔

 تعلیم کے دوران میں حساب کے مضمون میں زیادہ اچھی نہیں تھی لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ آگے جاکر میں ایسے شعبے میں جاؤں گی جس کی بنیاد ہی ہندسوں کے کھیل پر ہے۔

انیس سو نواسی میں فرسٹ وومن بینک کے نام سے خواتین عملے پر مشتمل ایک بینک قائم کیا گیا۔ مجھے اس میں کام کرنے کی آفر ہوئی جو میں نے قبول کرلی۔ میں نے سوچا کہ یہ ایک اچھا موقع ہے کہ میں خواتین کے لیے خواتین کے ساتھ مل کر کام کروں۔ مجھے آڈٹ ٹیم کا اعلٰی عہدہ دیا گیا۔

فرسٹ وومن بینک پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا واحد بینک ہے جسے صرف خواتین چلا رہی ہیں۔ جب بینک شروع کیا گیا تو یہ ایک آزمائش تھی۔ ہم نے بینک کو کامیاب بنانے کے لیے بہت جدوجہد کی ہے اور بہت مشکلات کا سامنا کیا ہے کیونکہ یہ ایک نیا تجربہ تھا۔

لوگ کہتے تھے کہ خواتین کا بینک ہے، بہت جلد ختم ہوجائے گا۔ آج وہی لوگ ہمیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہماری کامیابی کا یہی راز ہے کہ ہم نے ہمت نہیں ہاری اور آگے ہی آگے بڑھتے گئے۔

 لوگ کہتے تھے کہ خواتین کا بینک ہے، بہت جلد ختم ہوجائے گا۔ آج وہی لوگ ہمیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہماری کامیابی کا یہی راز ہے کہ ہم نے ہمت نہیں ہاری اور آگے ہی آگے بڑھتے گئے۔

میں نے مردوں کے ساتھ بھی کام کیا ہے اور اب صرف خواتین کے ساتھ۔ دونوں مختلف تجربے ہیں۔ مسلم کمرشل بینک میں بہت عزت و احترام اور تعاون ملا۔ ترقی اور محنت کے اتنے ہی مواقع ملے جیسے کہ مردوں کو۔ میرے ساتھ یہ ہوا کہ میں جہاں بھی تعینات کی گئی، عموماً وہاں میں واحد خاتون ہوا کرتی تھی۔ بہت کم ادارے ایسے ہیں جہاں صرف خواتین ہوں تو بہرحال ماحول کا فرق تو تھا لیکن میرے لیے دونوں جگہ کام کرنا برابر ہے۔ مرد ہو یا عورت ہمیں اس نظریے سے دیکھنا چاہیے کہ ہم پروفیشنلز ہیں۔

آج کل صنفی امتیاز کی بہت بات ہورہی ہے اور کچھ جگہوں پر ایسا ہوتا بھی ہوگا لیکن میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ یہ ضرور تھا کہ اس زمانے میں خواتین اپنے کیریئر کے بارے میں اتنی سنجیدہ نہیں ہوا کرتی تھیں۔ لوگ یہی کہتے تھے کہ ان کی شادی ہوجائے گی تو چھوڑ کر چلی جائیں گی تو کیوں نہ مردوں کو کام دیا جائے۔ لیکن جن خواتین کو کام کرنا ہوتا ہے، کیریئر بنانا ہوتا ہے وہ یہ ثابت کردیتی ہیں اور میں بھی انہیں خواتین میں سے ایک ہوں۔

گھر اور کیریئر ایک ساتھ چلانا ممکن ہے بس ذرا پلاننگ کی ضرورت ہے۔ ہمارا زیادہ وقت آفس میں گزرتا ہے لیکن گھر کو بھی نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں میں توازن ضروری ہے۔

 خواتین چاہے گھریلو ہوں یا پروفیشنل، انہیں سمجھوتہ کرنا ہی پڑتا ہے اور ملازمت کرنے والی خواتین تو اپنے چوبیس گھنٹوں کو اڑتالیس گھنٹے بنا لیتی ہیں۔ ہم صبح سے کام شروع کرتے ہیں تو رات تک بغیر رکے مصروف رہتے ہیں اور زندگی تو نام ہی کچھ لینے اور دینے کا ہے۔

جب میری شادی ہوئی تو میں پہلے ہی سے ملازمت کرتی تھی۔ یہ بھی ایک دلچسپ قصہ ہے۔ میرے پاس آفس میں چند لوگ آئے جو اکاؤنٹ کھولنا چاہتے تھے لیکن میں نے منع کردیا کیونکہ ان کی پاس کوئی ریفرنس نہیں تھا۔ پھر ہوا یوں کہ انہوں نے میرا اکاؤنٹ زندگی بھر کے لیے کھول لیا کیونکہ وہی بعد میں میرے سسرال کے افراد ثابت ہوئے۔

میرے شوہر بھی اسی شعبے سے وابستہ ہیں اور ایک ہی پروفیشن ہونے کے باعث ہم ایک دوسرے کے مسائل اور ضروریات کو سمجھتے ہیں۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ بینکنگ میں آفس کو زیادہ وقت اور توجہ دینی ہوتی ہے۔

میں آج جو کچھ ہوں اپنے والدین، شوہر اور بیٹی کی وجہ سے ہوں۔ میری ایک بیٹی ہے۔ میں مانتی ہوں کہ میں اسے اتنا وقت نہیں دے پاتی جتنا کہ ایک ماں کو دینا چاہیے۔ لیکن جتنا وقت میں دیتی ہوں وہ کوالٹی ٹائم ہوتا ہے۔ میرے خیال میں پروفیشنل خواتین کے بچے زیادہ پر اعتماد اور آزاد ہوتے ہیں۔

خواتین چاہے گھریلو ہوں یا پروفیشنل، انہیں سمجھوتہ کرنا ہی پڑتا ہے اور ملازمت کرنے والی خواتین تو اپنے چوبیس گھنٹوں کو اڑتالیس گھنٹے بنا لیتی ہیں۔ ہم صبح سے کام شروع کرتے ہیں تو رات تک بغیر رکے مصروف رہتے ہیں اور زندگی تو نام ہی کچھ لینے اور دینے کا ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد