’میں نے امتیاز کی جنگ لڑی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ثمینہ پیر زادہ پاکستان میں شوبز کی دنیا کا معروف نام ہیں۔ وہ نہ صرف ماڈلنگ اور اداکاری کے لیے ایک خوبصورت فنکارہ تصور کی جاتی ہیں بلکہ وہ کئی فلمیں اور ڈرامے پروڈیوس اور ڈائریکٹ کرچکی ہیں اور اب بھی چند پروجیکٹس پر کام کررہی ہیں۔ شوبز کی دنیا میں ثمینہ پیرزادہ نے کامیابی کے ساتھ اپنا سفر طے کیا ہے اور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی نادیہ اسجد نے اس ہی سفر کے بارے میں ان سے بات چیت کی۔ ان کے ساتھ کی جانے والی یہ بات چیت مختلف شعبوں میں پاکستان کی کامیاب خواتین کی جدوجہد کی کہانی کی ایک کڑی ہے۔ ’میں بچپن ہی سے بلیک اینڈ وائٹ سینما سے متاثر تھی۔ مجھے یاد ہے میں چار یا پانچ سال کی تھی جب میں اپنے والدین کے ساتھ اندرون سندھ جارہی تھی۔ رستے میں میرے والد مجھے اور والدہ کو ایک سیمنا گھر لے گئے۔ بس اسی دن وہ فلم اتنی پرکشش لگی کہ میں اس کے سحر میں گم ہوگئی۔ مجھے یوں لگا کہ میں خود سکرین کا حصہ بن گئی ہوں اور جب ہی سے میں نے سوچ لیا کہ مجھے بھی یہی کام کرنا ہے۔ اس زمانے میں سالگرہ کی تقاریب میں فلمیں دکھانے کا رواج تھا۔ میں سکول کالج کے ڈراموں میں کام کرلیا کرتی تھی لیکن تب تک مجھے باقاعدہ ٹی وی یا ماڈلنگ کی اجازت نہیں ملی تھی۔ مجھے کم عمری سے ہی ماڈلنگ اور ڈراموں میں کام کرنے کی پیشکش تھی۔ میری ماں خوفزدہ تھیں کہ میری ذمہ داری کون لےگا، یہ مشکل کام ہے۔
دراصل ہمارا نظام ہی ایسا ہے۔ یہاں شوبز کی دنیا میں شامل ہونے کا خاص طریقہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں ابھی یہ شعبہ گھروں کا حصہ نہیں بنا ہے۔ ہم ٹی وی فلمیں دیکھ تو لیتے ہیں لیکن اسے کرنے والے اور لوگ ہیں۔ لیکن مجھ سے نہیں رہا گیا۔ میرا گھرانہ فنکاروں کا گھرانہ ہے۔ کوئی خوبصورت آواز کا مالک ہے تو کوئی بہترین لکھاری۔ بہت آرٹ ہے اور لفظوں کا چرچا ہے۔ میرا بھائی پینٹر ہے۔ میں آرٹسٹک مزاج تھی اور شاعری بھی کرتی تھی۔ میری خالہ بچوں کا تھیٹر کرتی تھیں۔ مجھے والدہ سے اس میں کام کرنے کی اجازت مل تو گئی مگر جب میرے والد کو پتہ چلا تو وہ بہت ناراض ہوئے۔ میں یوں بھی نازک مزاج تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ بہت نازک اور حساس ہے اور اپنے لیے اتنا مشکل کیریئر چننا چاہ رہی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اس شعبے میں جس طرح کے لوگ ہوتے ہیں ان میں کھڑا ہونا اور بات کرنا میرے لیے مشکل ہوگا۔ میں آہستہ آہستہ کام میں آئی۔ میرے والد نے مجھے ڈانس نہیں سیکھنے دیا۔ مجھے ڈانس سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ اور جب میں فلموں میں گئی، لیڈ رول کیا اور ڈانس بھی کرنا چاہا لیکن میں کر نہیں پائی۔ میرے والد کا اجازت نہ دینا میرے پاؤں میں بہت بڑی بیڑی تھی۔
جب میری شادی ہوئی تو میں شوبزنس کی دنیا میں نہیں تھی۔ البتہ میرے شوہر عثمان شوبز سے ہی تھے۔ شادی کے لئے میں نے خود عثمان کو پروپوز کیا تھا۔ میں زندگی کو اپنے ہاتھ میں لینے کی قائل ہوں۔ میری شادی سے قبل میری والدہ نے عثمان سے کہا تھا کہ اسے اداکاری کا بہت شوق ہے لیکن یہ اس کام میں نہ آئے تو عثمان نے انہیں جواب دیا تھا کہ آپ کو مایوسی نہیں ہوگی۔ لیکن اداکاری کرنے کی چاہت مجھ میں اتنی شدید تھی کہ میں رک ہی نہ سکی۔ عثمان شروع میں کچھ غیر مطمئن تھے کیونکہ وہ میری امی سے کیا گیا وعدہ نبھانا چاہتے تھے لیکن پھر میرے شوق کے آگے انہوں بھی کوئی مخالفت نہیں کی بلکہ ہمیشہ مجھے بہت زیادہ سپورٹ کیا۔ باہر کی دنیا میں مجھے صنفی امتیاز کا بہت زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ میرے پورے کیریئر کے دوران میرے ساتھ یہ ہوا ہے۔ لیکن میں نے کبھی اسے اپنے لئے ایک مسئلہ نہیں بنایا۔ ہمارے یہاں عام سوچ یہی ہے کہ یہ تو خاتون ہے اس کو کیا پتا؟ عورت چاہے جتنی بڑی بات کرے یا دلیل دے تب بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اسے کیا معلوم، اس کا علم تو محدود ہے۔
اگر میں لڑکا ہوتی تو شاید اتنی مشکلات کا سامنا نہ ہوتا۔ ہے تو یہ مردوں کی دنیا۔ جب کوئی آگے بڑھ رہا ہوتا ہے تو روکنے والے بہت ہوتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ کچھ ایسا ہے کہ وہ آپ کو آگے پہنچانے میں نہیں بلکہ پیچھے کھینچنے میں لگا رہتا ہے۔ مرد کے بارے میں شروع ہی سے لوگوں کا یہ رویہ ہوتا ہے کہ چونکہ یہ مرد ہے تو حالات سے باآسانی نمٹ سکتا ہے۔ میں نے جب فلمیں بنائیں تو اس بات کا مجھے شدت سے احساس ہوا کہ عورت کی ذہنی صلاحیتوں کو بہت کمتر سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ابھی عورت کے ذہن کو قبول نہیں کیا گیا۔ وہ صرف ماں، بیٹی ، بہن یا بیوی کے کردار ہی میں مناسب تصور کی جاتی ہے۔ اسے آرام یا خوشی پہنچانے والی ’چیز‘ کا درجہ دیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں سمجھا جاتا کہ اس کی ذہنی صلاحیتیں مرد کی طرح یا اس سے بہتر بھی ہوسکتی ہیں۔ لیکن مرد و عورت کی تفریق کا یہ تصور ہمارے گھر میں نہیں تھا۔ گھر والوں کو البتہ آگے کی مشکلات کا خوف ضرور تھا۔ میں نے ان کی مخالفت کو کبھی چیلنج نہیں کیا اور نہ ہی کبھی اس بات پر ان سے ناراض ہوئی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ وہ ایسا میری بھلائی کے نقطۂ نظر سے سوچتے ہیں۔ میں اس بات کو سمجھتی تھی کہ یہ لوگ میرے حساس ہونے اور آگے آنے والے چیلنجز کے لئے پریشان ہیں۔ میرے گھر میں اور بات تھی۔ ہم بچوں کو اجازت تھی کہ ہم کھانے کی میز پر بڑوں کی بات چیت میں حصہ لے سکتے تھے اور مشورے دے سکتے تھے۔ اس ماحول نے ہی مجھ میں اتنا اعتماد پیدا کیا۔ میرے والد نے ابتدا میں میرے کام کی مخالفت تو کی لیکن مزے کی بات یہ کہ میں نے جب فلمیں اور ڈرامے کئے تو میرے والد میرا کام چپکے چپکے دیکھا کرتے تھے اور بعد میں انہیں مجھ پر فخر بھی ہونے لگا۔ میں نے فن کے شعبے میں جو کچھ کیا اور جو کچھ میں بن گئی انہیں اس پر فخر تھا۔ انہوں نے پھر کبھی تنقید نہیں کی۔
میں ان عورتوں میں سے ایک ہوں جنہوں نے صنفی امتیاز کی جنگ لڑی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہم بھی مردوں کی نسبت اتنے ہی باصلاحیت ہیں بلکہ بعض اوقات زیادہ باصلاحیت ہیں۔ میں اپنے کام سے بہت خوش ہوں۔ لاہور فلم انڈسٹری میں دو فلمیں بنانا اور اپنا آپ منوانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ میں نے چھ فلموں میں کام کیا اور دو فلمیں پروڈیوس اور ایک ڈائریکٹ کی ہے۔ آج کل بھی میں چند ممکنات پر غور کررہی ہو۔ میں اداکاری میں واپس آئی ہوں۔ تین چار فلموں کی منصوبہ بندی کررہی ہوں۔ کچھ انڈیا کے ساتھ کو پروڈکشن کا پروگرام ہے اور یورپ میں بھی فلم بنانے کا ارادہ ہے لیکن ابھی یہ طے نہیں کیا ہے کہ اپنی اگلی منزل کے لئے کس راستے کا انتخاب کرنا ہے۔ میرے سامنے بے شمار منزلیں اور سفر ہے جو مجھے طے کرنا ہے۔ اگلے چند روز میں میں اگلی فلم کا تعین کرلوں گی۔ لیکن اس مصروفیت کا ایک نقصان بھی ہے اور وہ یہ کہ میں اپنے گھر اور بچوں کو اس طرح سے وقت نہیں دے پارہی جیسے پہلے دیا کرتی تھی۔ آج کل کراچی میں کام کررہی ہوں، بیرون ملک بھی آنا جانا رہتا ہے۔ جب گھر واپس آتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ گھر میں وہ رنگ، روشنی اور گرمجوشی نہیں ہے جو میرے ہونے سے ہوتی ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||