توازن اور جدوجہد کا سفر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹر ملیحہ لودھی برطانیہ کے لیے پاکستان کی ہائی کمشنر ہیں اور وہ ماضی میں امریکہ کے لئے بھی پاکستان کی سفیر رہ چکی ہیں۔ ملیحہ لودھی نے لندن سکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹکل سائنس سے سیاسیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور وہ صحافت اور تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہ چکی ہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی نادیہ اسجد نے ان سے بات چیت کی۔ ’جس چیز نے مجھے زندگی میں سب سے زیادہ متاثر کیا وہ میری والدہ کی مثال ہے۔ میری والدہ نے صحافت میں تعلیم حاصل کی اور اسی شعبہ میں بی اے آنرز کیا جس کے بعد انہیں امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی سے ایک وظیفے کی پیشکش ہوئی تھی لیکن وہ تقسیم کا زمانہ تھا۔ اسی زمانے میں میری والدہ کی شادی ہوگئی جس کی وجہ سے وہ اپنا سکالرشپ استعمال نہیں کرسکیں۔ انہوں نے اپنا کیریئر چھوڑ کر اپنے آپ کو گھریلو زندگی کے لیے وقف کردیا۔ ان کی زندگی سے میں نے بہت کچھ سیکھا کہ انہوں نے اعلٰی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اتنی بڑی قربانی دی۔ تعلیم حاصل کرنے اور کچھ بننے کی حوصلہ افزائی مجھے اپنے والدین سے ملی۔ کیریئر بنانے کے لیے اپنی گھریلو زندگی میں توازن قائم کرنا نہایت ضروری ہے اور یہی میں نے بھی کیا۔ ملازمت کرنے والی تمام خواتین کو یہ توازن ہمیشہ قائم رکھنا پڑتا ہے۔ یہ آسان کام نہیں لیکن ہم کسی نہ کسی طرح اس میں کامیاب ہوہی جاتے ہیں۔ جو خواتین یہ نہیں کرسکتیں انہیں دونوں میں سے ایک کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ زندگی کے کسی موڑ پر عورت کے سامنے دو راستے آجاتے ہیں جن میں سے اسے ایک چننا ہوتا ہے۔ اب یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتی ہے۔ حالانکہ میرے خیال میں کیریئر اور گھریلو زندگی ایک ساتھ ممکن ہیں۔ میرا ایک بیٹا ہے جو پچیس سال کا ہے۔میں ہمیشہ اس سے پوچھتی ہوں کہ کیا کبھی ایسا بھی وقت تھا جب میں اپنی مصروفیات میں اتنی گھری ہوئی تھی کہ اسے وقت نہ دے سکی تو وہ کہتا ہے مجھے جب بھی آپ کی ضرورت پڑی آپ میرے پاس موجود تھیں۔ اس حوالے سے میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں اس کی اور اپنی توقعات پر پوری اتری ہوں۔
لیکن ظاہر کہ بہت سے وقت ایسے بھی آتے ہیں جب آپ کو دو جگہ ہونا پڑتا ہے جوکہ ممکن نہیں ہے۔ کچھ نہ کچھ تو کھونا ہی پڑتا ہے۔ مجموعی طور پر ایک توازن کی جدوجہد میں ایک عورت کو بہت اہم فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ لیکن یہ مشکل کام ہے۔ کچھ بننے کے لیے سب سے اہم چیز تعلیم ہے۔ جس گھر کے ماحول میں تعلیم کو اہمیت دی جائے گی وہاں کیریئر بنانے کے لیے حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔ میں اس معاملے میں خوش قسمت تھی کہ مجھے گھر میں ایسا ہی ماحول ملا۔ اگر کسی عورت نےکسی شعبے میں آگے جانا ہے اور نام کمانا ہے تو اس کو بھی ان صلاحیتوں کی ضرورت ہوگی جیسا کہ ایک مرد کو۔ اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک خاتون کو مرد کی نسبت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے زیادہ جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ کسی حد تک تو میں نے یہ بھی سوچا کہ ایک عورت ہمیشہ ہی آزمائش میں رہتی ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ آیا ایک خاتون کسی ذمہ داری کو صحیح طور پر نبھا رہی ہے یا نہیں۔ مرد کے بارے میں کبھی یہ نہیں پوچھا جاتا اور خود ہی یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ مرد تو کوئی بھی کام سر انجام دینے کا اہل ہے۔ یقیناً کیریئر بنانے کی راہ میں ایک مرد کی نسبت عورت کے راستے میں بہت رکاوٹیں ہیں۔ یہ مسئلہ پاکستانی معاشرے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہر جگہ ہے۔ مغرب میں بھی بہت سے شعبوں میں خواتین کی نمائندگی نہیں ہے یا کم ہے۔ بیشتر شعبوں کے اعلٰی عہدوں پر مرد ہی فائز ہیں۔ ابھی عورت کو بہت آگے جانا ہے۔ اگر آپ اپنی نظر اور جستجو کو اپنے مقصد پر مرکوز رکھیں اور ارادہ مضبوط ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔
میں نے اپنے کیریئر کا آغاز صحافت سے کیا۔ میں ایک اخبار میں کام کر تی تھی جو اسلام آباد سے نکلتا تھا۔ کام تو میں مدیر کا کرتی تھی لیکن مجھے مدیر کا عہدہ نہیں دیاگیا تھا۔ کئی مہینوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ میں ایک دن اخبار کے مالک کے دفتر گئی اور ان سے پوچھا کہ کام تومیں مدیر کا کرتی ہوں لیکن مجھے یہ عہدہ کیوں نہیں دیا جاتا؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک عورت ہوں؟ اس بات کے چند ہی روز بعد مجھے ایڈیٹر بنادیا گیا۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ یہ صنفی امتیاز تھا کیونکہ مجھے بعد میں ایڈیٹر بنادیا گیا تھا مگر شاید کوئی ہچکچاہٹ تھی جس کی وجہ سے یہ نہیں ہو رہا تھا اور مجھے اس معاملے پر اپنی آواز اٹھانی پڑی۔ صحافت ایسا شعبہ ہے جس میں وقت کا کوئی تعین نہیں ہوتا نہ ہی دن رات کا پتا چلتا ہے۔ میں اکثر رات کے ڈھائی تین بجے گھر پہنچتی تھی۔ گھر والوں کی حمایت کے بغیر میرے لیے آگے بڑھنا ممکن نہ ہوتا۔ کیریئر بنانا عورت کے لیے مشکل تو ہے ہی اور یہ مشکل اس وقت بڑھ جاتی ہے جب عورت کسی ادارے کی سربراہ ہو۔ آدھا وقت تو وہ مردوں کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف یہ فرائض سرانجام دینے کی اہل ہے بلکہ وہ کام کو بہتر طور پر بھی کر سکتی ہے۔ دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں صنفی امتیاز نہ پایا جاتا ہو۔ پاکستان بھی کوئی مختلف نہیں۔ حالانکہ ہمارے مذہب میں ایسا کوئی امتیاز نہیں۔ اسلام میں تو سب کو کہا گیا ہے کہ تعلیم حاصل کرو اور معاشرے میں فعال کردار ادا کرو۔ اس میں عورت اور آدمی کا فرق نہیں کیا گیا۔ اس امتیاز میں زیادہ دخل روایات اور ثقافت کا ہے۔ پاکستان میں خواتین کا کردار بہتر ہوا ہے۔ ہم کافی آگے آئے ہیں۔ دس یا بیس سال پہلے مختلف شعبوں میں خواتین کی شمولیت اتنی نہیں تھی جتنا کہ آج ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||