عورت کہانی: آخر کب تک۔۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ یقین کریں کہ ہمارا معاشرہ اتنا مرد زدہ ہے کہ بعض اوقات میرے پاس خواتین مریض آتیں تو باوجود میرے ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر ہونے کے وہ سمجھتیں کہ مرد ہی اچھا جانتے ہیں اور ان کی کوشش بھی ہوتی ہے کہ کسی مرد ڈاکڑ سے علاج کرائیں۔ اگر کوئی لڑکی خود چاہتی ہے کہ وہ کسی کمرشل میں نظر آئے یا کسی ہورڈنگ بورڈ پر اس کی تصویر لگے تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ میں ملک کے تمام بڑے شہروں میں رہی ہوں لیکن جتنے مسائل خواتین کو صوبہ سرحد میں ہیں کہیں اور نہیں۔ میرا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔ میرے والد چونکہ سرکاری ملازم تھے اس لئے ابتدائی تعلیم میں نے کراچی سے حاصل کی اور ایم بی بی ایس ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد سے کیا۔ اس کے بعد شادی ہوگئی۔ کچھ عرصہ سرکاری نوکری کی لیکن اب میں اپنا نجی کلینک چلاتی ہوں۔ میرے شوہرایک وکیل ہیں اور ہمارا ایک بیٹا ہے۔
میں نے زیادہ تر کام دور دراز علاقوں میں کیا ہے جہاں پر خواتین کو انتہائی کم تر سمجھا جاتا ہے اور پھر قبائلی علاقہ جات اور پہاڑی علاقوں میں تو علاج معالجے کے سلسلے میں ان کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی جاتی۔ دیہی علاقوں میں مریض کو اس وقت ڈاکٹر کے پاس لایا جاتا ہے جب اس کے بچنے کے بہت کم امکانات رہ جاتے ہیں۔ میرے پاس اکثر اوقات اس طرح کے مریض آتے رہے ہیں۔ اگر دوائی تھوڑی بہت مہنگی ہو اور علاج بھی لمبا ہو تو ماں باپ یا شوہر زیادہ توجہ نہیں دیتے جس سے عام طور پر مریض یا تو مرجاتا ہے یا پھر اپاہچ ہوجاتاہے۔ اس کے مقابلے میں مرد کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ پختون معاشرے میں یہ تصور عام ہے کہ بیٹی کو تو ویسے بھی شادی کے بعد پرائے گھر جانا ہے پھر اس پر اتنی توجہ کیوں دی جائے۔ اسلام میں تو سب برابر ہیں پھر یہ اونچ نیچ کیوں اور کیسے؟ ایک تو ہمارے معاشرے میں جب بھی کوئی بات عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ہوتی ہے تو مذہب کو بیچ میں لایا جاتا ہے۔ حدود آرڈنینس کو بیشتر اوقات غریب خواتین کے خلاف استعمال کیا جارہاہے۔ عورت پر یہ لیبل لگایا جاتا ہے کہ وہ جذباتی ہے۔ حالانکہ عورت جتنا برداشت کرتی ہے، مرد اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ طلاق کے سلسلے میں اس کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ ان سب چیزوں میں ترامیم ہونے چاہئیں کیونکہ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اسلام کے رو سے چار شادیوں کی اجازت کسی مصلحت کے تحت دی گئی ہے مستی کے لیے نہیں۔ اگر کسی خاتون کے بچے بھی پیدا ہورہے ہیں اور صحت بھی اسکی اچھی ہے تو اس صورت میں اس کا قصور کیا ہے کہ اس کے اوپر دوسری خاتون کو لایاجاتاہے؟ میں تو کہتی ہوں کہ عورت کو خودمختار ہونا چاہئے۔ اسے شادی کے بغیر بھی سماجی دائرے کے اندر رہ کر زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔ شادی اس کے لئے اتنی ضروری بھی نہیں اور وہ اس کے بغیر بھی رہ سکتی ہے۔ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت آنے سے ابھی تک میں نے تو کوئی مشکل محسوس نہیں کی ہے لیکن اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں کہ انہوں نے میوزک پر پابندی لگائی اور خواتین کی تصویروں کو اتروایاہے۔ اگر کوئی خاتون خود کسی ٹی وی اشتہار میں آنا چاہتی تو ہم کون ہیں روکنے والے؟ وہ خود اپنا اچھا برا سمجتھی ہیں، انہیں خود جواب دینا ہے، ہمیں یا حکومت کو اس سلسلے میں کوئی مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔
اگر حکومت خواتین کے حوالے سے اتنی حساس ہے تو ان کو نوکری کیوں نہیں دلائی جاتی؟ ان کی فلاح وبہبود کے لئے کام کیوں نہیں کئے جاتے؟ ان کی مالی معاونت کیوں نہیں ہوتی؟ اور سب سے بڑھ کران کی تعلیم وتربیت کا خیال کیوں نہیں رکھاجاتا۔ آخر وہ ایک ماں ہے، بیوی ہے، بہن ہے اس کے پاؤں تلے جنت ہے اسکی خوشی میں دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ میرا اربابِ اختیار سے ایک ہی سوال ہے کہ عورت ظلم کی چکی سے کب نکلی گی، کب تک ان سے نا انصافی ہوتی رہی گی، آخر کب تک - - - - نوٹ: ڈاکڑ سوھا ظہیر خان نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ اگر آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||