خواتین کاروبار میں بھی کامیاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عائشہ زینت پاکستان میں کاروبار سے وابستہ ہیں اور اپنے شعبے کی انتہائی کامیاب خواتین میں سے تصور کی جاتی ہیں۔ وہ اسلام آباد میں گزشتہ پندرہ سال سے’پاپا سالیس‘ نامی ایک اٹالین ریسٹورنٹ چلاتی ہیں جو بہت پسند کیا جاتا ہے ۔ بی بی سی کی نادیہ اسجد نے کاروبارکے شعبے میں ان کےدلچسپ سفر کے بارے میں بات چیت کی۔ ’میں نےابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی۔ اس وقت میرے والدین سعودی عرب میں تھے۔ بی اے کرنے کے بعد میں اپنے والدین کے پاس سعودی عرب چلی گئی۔ مجھے امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی شدید خواہش تھی۔ جب میں نے اپنے والدین سے اس خواہش کا اظہار کیا تو میرے والد اس حق میں نہیں تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں لڑکی ہوں اور عمر میں بھی کم ہوں اس لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ میں کسی دوسرے ملک جاکر تعلیم حاصل کروں۔ میرے لیے دنیا کا سامنا کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ میں نے جب ضد کی تو انہوں نے کہہ دیا کہ وہ اس کے اخراجات اٹھانے کے قابل نہیں۔ انہوں نے ہر طرح کے بہانے کیے۔ میں بھی ارادے کی پکی تھی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میں خود ہی پیسہ کما لوں گی جس پر میرے والد نے یقین نہیں کیا بلکہ بات مذاق میں اڑادی۔ مگر میں نے اپنی بات سچ کردکھائی۔ میں بیکنگ میں اچھی تھی اور کیک اور بسکٹ وغیرہ اچھے بنایا کرتی تھی۔ میں نے اپنے والد کے کلب میں یہ چیزیں بیچنا شروع کردیں۔ لیکن جب پیسوں کا حساب لگایا تو مجھے اندازہ ہوا کہ باہر جانے کے لیے پیسے جمع کرنے میں تو مجھے سالوں لگ جائیں گے۔ اس زمانے میں امریکہ میں یونیورسٹی کے ایک سیمسٹر کی فیس دس ہزار ڈالر ہوا کرتی تھی۔
خوش قسمتی سے مجھے میک اپ اشیاء بنانے والی ایک بین الاقوامی کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ مجھے گھر گھر جاکر اشیاء فروخت کرنی ہوتی تھیں۔ پھر مجھے زونل مینیجر بنا دیا گیا حالانکہ اس وقت ایشین افراد کو اچھی ملازمتیں نہیں ملتی تھیں، ’گوروں‘ کو ترجیح دی جاتی تھی لیکن میں خوش قسمت رہی اور جلد ہی پیسے بھی خوب کمانے لگی۔ میری آمدنی میرے والد سے بھی زیادہ ہوگئی تو میرے والد کو پریشانی ہوئی کہ میں پیسے کمانے کے چکر ہی میں نہ پھنس جاؤں۔ انہوں نےکہا کہ اب صحیح وقت ہے کہ تم پڑھنے کے لیے امریکہ چلی جاؤ۔ میں نے تین سال کے عرصے میں امریکہ کی یوسٹن یونیورسٹی سے ہوٹل مینیجمنٹ میں ڈگری حاصل کی۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ میں نے مختلف ملازمتیں کیں۔ مجھے کھانے پکانے سے خاص دلچسپی تھی اور اسی دلچسپی کو میں نے استعمال کیا۔ میں نے امریکہ کے کئی ریسٹورانٹس میں کام کیا، بطور شیف کھانے بھی پکائے۔ بنیادی طور پر میں نے بین الاقوامی کھانوں کی تراکیب وہیں سے سیکھیں اور اب اپنے اٹالین ریسٹورانٹ میں بھی کھانے کی وہی تراکیب استعمال کرتی ہوں۔ ان ہی کی وجہ سے یہ ریسٹورانٹ نہایت مقبول ہے۔ امریکہ سے واپس آنے کے بعد میں نے میریٹ ہوٹل میں ملازمت کی۔ اس وقت وہاں بہت کم خواتین کام کرتی تھیں۔ یہ میرے لیے تھوڑا مشکل تھا کیونکہ اس طرح کے کام میں خواتین کے کام کرنے یا انہیں قبول کرنے کا رجحان ایسا نہیں تھا جیسا کہ اب ہے۔ پھر میں نے اپنا ریسٹورانٹ کھولنے کا ارادہ کیا۔ میں نے جب سب کو بتایا کہ میں اٹالین ریسٹورانٹ کھولوں گی تو سب ہی نے بہت حوصلہ شکنی کی۔ سب کہتے تھے کہ پاکستانی کھانے ہونے چاہئیں کیونکہ یہاں کوئی بھی اٹالین کھانے شوق سے نہیں کھائے گا۔ لوگ چکن کڑاہی، سالن روٹی ہی پسند کرتے ہیں۔ کچھ نے کہا کہ بین الاقوامی کھانوں کے ساتھ پاکستانی کھانے بھی رکھوں لیکن میرا دل نہ مانا اور میں نے دو اکتوبر انیس سو نواسی کو ’پاپا سالیس‘ کا افتتاح کیا۔ پہلے دن میں نے اپنے تمام ملازمین سے کہا کہ اگر ہم دو ہزار روپے منافع کمانے میں کامیاب ہوگئے تو کامیاب کہلائیں گے۔ اس دن ہمارا منافع تین ہزار روپے رہا۔ اس کے بعد دن بدن یہ امیدوں سے زیادہ بڑھتا چلاگیا اور آج تک اس سے ہونے والی آمدنی ہماری توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن اس کامیابی کے پیچھے دن رات کی محنت کا ہاتھ ہے۔ میں اپنے ریسٹورنٹ میں جاکر اکثر کھانے خود بھی بنالیتی ہوں اور دیگر ملازمین کی تربیت بھی کرتی ہوں۔ ظاہر ہے کہ کاروبار کے لیے اتنا وقت نکالنے کا مطلب ہے کہ گھر کو میں اتنا وقت نہیں دے پاتی جتنا کہ دینا چاہیے۔ میرے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی، گھر اور بچے کچھ نہ کچھ نظر انداز ہوہی جاتے ہیں۔ میں نے اپنے کاروبار کے لیے بہت محنت کی ہے اور اب بھی اسے توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے میں اسے نظر انداز نہیں کرتی مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب میں اپنے کاروبار کو پوری طرح وقت دیتی ہوں تو بچے نظر انداز ہوجاتے ہیں اور جب میں بچوں کے لیے وقت نکالتی ہوں تو ریسٹورانٹ نظر انداز ہوجاتا ہے۔ توازن قائم رکھنا مشکل تو بہت ہے لیکن میری پہلی ترجیح میرا گھر اور بچے ہی ہیں۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ کوئی میرے گھر آئے اور گھر پر نہ تو مناسب صفائی ہو اور نہ ہی کھانے پینے کا انتظام۔ اس لیے میری کوشش ہوتی ہے کہ گھر کو زیادہ توجہ دوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||