عام کہانیاں: ایس ایچ او غزالہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں کراچی میں پیدا ہوئی۔ میرا تعلق سید گھرانے سے ہے۔ میرا بچپن انتہائی شاندار گزرا۔ میں ننہیال اور ددھیال دونوں کی آنکھ کا تارا تھی کیونکہ والدین کی شادی کے دس برس بعد منتوں مرادوں کے ساتھ میرا جنم ہوا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ بچپن میں میں نے کبھی فراک پہنی ہو۔ میں دس برس کی تھی کہ میرے والد اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ میری والدہ نے میری پرورش کی۔ میٹرک کے بعد انہوں نے میری شادی کر دی۔ میرے شریکِ حیات بیرون ملک ملازمت کرتے تھے لہٰذا میں نے ان کی اور سسرال والوں کی اجازت کے بعد پڑھائی کا سلسلہ پھر سے شروع کیا اور محکمۂِ پولیس میں بھرتی ہوگئی۔ محکمۂ پولیس میں میری آمد اتفاقیہ تھی۔ میں نے کبھی ملازمت کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ ہمارے خاندان میں خواتین کی ملازمت کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن اس کے باوجود تمام رشتہ داروں نے میری خوب حوصلہ افزائی کی جس سے میرے اعتماد میں اضافہ ہوا۔
میں نے اپنے کریئر کے آغاز میں محکمۂ پولیس کے فلاحی شعبہ میں کام کیا۔ یہاں رہ کر میں نے بلڈ سکرین کرنے کا کورس کیا۔ بعد ازاں اپنے محکمہ کے لیے ایک بلڈ بینک بنایا جس کا مقصد عام لوگوں اور پولیس سے وابستہ افراد کو خون فراہم کرنا تھا۔ ایس ایچ او کی ذمہ داری سنبھالنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ ابتدا میں میں اس ذمہ داری کو سنبھالتے ہوئے گھبرا رہی تھی ۔ تھانہ کلچر فلاحی شعبے سے خاصہ مختلف ہوتا ہے لیکن اس بات کا کریڈٹ اپنے شریک حیات کو ہی دوں گی کہ اگر مجھے ان کا تعاون اور بھروسہ حاصل نہیں ہوتا تو آج میں اس مقام پر نہیں ہوتی۔ مجھے ہنستے مسکراتے چہرے بہت پسند ہیں۔ ایس ایچ او بننے سے پہلے میں بھی بہت ہنسا کرتی تھی مگر اب سنجیدہ رہنا میری مجبوری ہے کیونکہ مجرم پیار محبت کی زبان نہیں سمجھتے۔ بعض اوقات مجھے اپنے سخت رویے سے خوف محسوس ہوتا ہے کہ کبھی مجرم یا ملزم رہا ہونے کے بعد مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں مگر پھر یہ سوچ کر مطمئین ہوجاتی ہوں کہ اگر ہم چوروں سے ڈرنے لگے تو سپاہی کس نام کے۔ میں کھانا پکانے میں ماہر ہوں۔ مجھے ہر طرح کا کھانا پکانا آتا ہے مگر کوشش کرتی ہوں کہ وہ ڈش بناؤں جو جلدی تیار ہو جائے۔ صبح گھر سے ساڑھے بارہ بجے کھانا پکا کر نکلتی ہوں۔ میرے شوہر بھی بہت اچھی بریانی پکاتے ہیں۔
میرے چار بچے ہیں دو لڑکے اور دو لڑکیاں۔ پہلے تو انہیں میری غیر موجودگی کا احساس نہیں ہوتا تھا لیکن اب اکثر شکایت کرتے ہیں کہ آپ کے پاس ہمارے لیے وقت نہیں ہوتا۔ مجھے ان کے احساسات کا خیال ہے اور جب میں ان سے سوری کہتی ہوں تو وہ جلدی مان بھی جاتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ہمارے ملک میں کرپشن بہت ہے۔ سسٹم ٹھیک کام نہیں کر رہا لیکن مسائل پیدا کرنے میں کچھ ہاتھ عوام کا بھی ہے۔ لوگ برائی کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ تھانے آنے سے ہچکچاتے ہیں۔ مجرم کی نشان دہی کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ جس دن عوام کا یہ ڈر ختم ہو گیا مسائل پس منظر میں چلے جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||