عراق: تشدد اور انتخابی تیاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اتوار کو ہونے والے انتحابات کی تیاریاں جاری ہیں اور تشدد میں 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اب زیادہ تر تشدد عراق کے سنی علاقوں میں ہو رہا ہے اور جمعرات کو رات گئے تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس تشدد میں ایک امریکی فوجی اور بارہ عراقی ہلاک ہوئے ہیں۔ عراق میں انتخابات کے نگران ادارے نے مختلف صوبوں میں بیلٹ باکس بھیجنے شروع کردیے ہیں۔ یہ بیلٹ باکس انتہائی سخت حفاظت میں مختلف پولنگ سٹیشنوں کوبھیجے جا رہے ہیں تاہم ابھی یہ نہیں بتایا جا رہا کہ یہ پولنگ سٹیشن کہاں کہاں قائم کیے جائیں گے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران روزانہ سو حملے ریکارڈ کیے گئے۔ جمعرات کو بغداد کے جنوبی ضلع محمدیہ میں سڑک کے کنارے ایک بم پھٹنے سے تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی فوجی اسکندریہ میں بنائے گئے امریکی فوجی اڈے پر داغے جانے والے ایک گولے کے نتیجے میں ہلاک ہوا۔ سمارہ میں تین افراد ایک کار بم حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے اور بغداد کے شمالی شہر بعقوبہ کے ایک حملے میں ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کئی جگہ ان مقامات کوبھی نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں ممکنہ پولنگ سٹیشن تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران برطانیہ نے عراق میں مزید دو سو بیس فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع جیف ہون نے کہا ہے کہ یہ فوجی اُن چھ سو فوجیوں کے دستے کا حصہ بنیں گے جو جنوبی صوبے متھانہ میں ہالینڈ کے اس فوجی دستے کی جگہ لے گا جو مارچ میں وطن واپس جارہا ہے۔ عراق میں برطانیہ کے پہلے ہی سے آٹھ ہزار فوجی موجود ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||