 |  برطانوی تجزیہ کار ٹوبی ڈاج کے مطابق ملک کسی کے بھی کنٹرول میں نہیں |
یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے عراق میں اتوار کے انتخابات ملک کو استحکام کی طرف لے جانے کے بجائے سیاست کا ایک اور عبوری مرحلہ ثابت ہوں گے۔ تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا انتخابات ملک کو مزید عدم استحکام سے دوچار کردیں گے یا حالات میں کچھ بہتری آئے گی۔ حالات کا منفی رخ دیکھنے والے افراد کا خیال ہے کہ انتخابات پرتشدد حالات کا ایک آتش فشاں ثابت ہوں گے اور مرکزی عراق کی سنی اکثریت کے لیے ووٹنگ کے لیے آنا بہت مشکل ہوگا۔ ایسے ہی خیالات یونیورسٹی آف لندن کے ایک ماہر ٹوبی ڈاج نے بھی ظاہر کیے ہیں۔ ’ملک میں سکیورٹی کا خلاء ہے۔ ملک کسی کے بھی کنٹرول میں نہیں۔ انتخابات سے جو اونچی توقعات وابستہ کی گئی ہیں وہ غیر حقیقی ہیں‘۔ دوسری جانب تصویر کا روشن پہلو دیکھنے والوں کا خیال ہے کہ عراق کو مستحکم کرنے میں اگرچہ وقت لگے گا لیکن یہ ناممکنات میں سے نہیں ہے‘۔ یہ خیالات ظاہر کیے ہیں این کلائیڈ نے جو برطانوی حکومت کے انسانی حقوق کے ادارے کی خصوصی نمائندہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’عراق میں سول سوسائٹی کے قیام کی کوششوں پر مجھے پورا یقین ہے‘۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ انتخابات کا مقصد ایک مکمل آئینی حکومت کا قیام نہیں ہے۔ تاہم امید کی جارہی تھی کہ اب تک پرتشدد حملوں میں کمی آجائے گی اور ملک کا سیاسی ڈھانچہ کوئی شکل اختیار کرلے گا لیکن اب تک ایسا نہیں ہوسکا ہے‘۔ انتخابات کا مقصد 275 ارکان پر مشتمل ایک عبوری اسمبلی کا قیام ہے جو پہلے ملک کا صدر اور اس کے دو نائب منتخب کرے گی جو بعد میں وزیر اعظم اور حکومت کا انتخاب کریں گے۔ اسمبلی کا اصل کام ملکی آئین وضع کرنا ہوگا جس کے لیے اس کے پاس پندرہ اگست تک کا وقت ہے۔ آئین کی تشکیل کے بعد اس پر 15 اکتوبر کو ملک میں ریفرنڈم ہوگا۔ منظوری کی صورت میں یہ آئین 15 دسمبر کو عراق کے باقاعدہ انتخابات کی بنیاد بنے گا۔ |