عراق:الیکشن کے دوران سرحدیں بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیس جنوری کو منعقد ہونے والےالیکشن سے پہلے عراق کی سرحدیں مکمل طور پر بند کر دی جائیں گی۔ اس بات کا اعلان عراقی حکام نے منگل کو کیا۔ ان کاکہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری لانا ہے۔ ووٹ ڈالنے کے لیے جانے والے لوگوں کی حفاظت کے لیے کرفیو اور دیگر حفاظتی اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔ ادھر بغداد میں ایک شیعہ مسلم پارٹی کے دفتر پرایک خودکش کار بم حملے میں دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ سپریم کونسل فار اسلامک ریوولوشن نامی اس پارٹی کے بارے میں امید کی جا رہی ہے کہ وہ تیس جنوری کے انتخابات میں خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ پارٹی کے عہدیداروں نے اس حملے کو فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی سازش قرار دیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان نے خبر رساں ادارے ای ایف پی کو بتایا کے ’ یہ حملہ سابقہ دور کے ان دہشت گردگروہوں کی ناکام کوشش ہے جو کہ سیاسی جماعتوں کو ایک نئے عراق کی تشکیل سے روکنا چاہتی ہیں۔‘ بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ شیعہ آبادی اپنی تعداد کے بنا پر الیکشن جیتنے کی امید رکھتی ہے۔ ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجی الیکشن کے دوران حفاظتی انتظامات میں عراقی سکیورٹی فورسز کی مدد کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||