 |  بیرون ممالک میں رہنے والے عراقی شہریوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی جا رہی ہے |
اس ماہ ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے خواہشمند عراق سے باہر دوسرے ممالک میں رہنے والے عراقی شہریوں کا اندراج شروع ہو گیا ہے۔ چودہ ممالک میں جن میں برطانیہ، امریکہ اور اردن شامل ہے ووٹنگ سٹیشن بنا دیے گئے ہیں۔ منتظمین کا خیال ہے کہ عراق سے باہر چالیس لاکھ کے قریب عراقی ایسے ہیں جو ووٹ ڈالنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہ ووٹ ڈالنے والے کل ووٹروں کا دس فیصد بنتا ہے۔ ووٹ ڈالنے کے لیے بیرون ملک ووٹروں کو ان چودہ ممالک میں شامل 36 شہروں میں سے کسی ایک میں ضرور رجسٹر ہونا پڑے گا۔ ووٹر کے پاس موجودہ عراقی شہریت ضرور ہونی چاہیئے یا وہ کاغذات کے ذریعے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان یہودیوں کو جو عراق چھوڑ کر اسرائیل چلے گئے تھے ووٹ ڈالنے کی اجازت تو ہے لیکن اسرائیل میں ایسا کوئی پولنگ سٹیشن نہیں ہے جہاں وہ ووٹ ڈال سکیں۔ اس کی وجہ سے اردن اور مشرقِ وسطیٰ میں کئی اور جگہ عراقی حکومت کے مخالف یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ صرف امریکہ کے عراق پر قبضے کو جائز قرار دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ لیکن کئی عراقی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے تصور سے خوش بھی ہیں۔ |