BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 June, 2004, 18:01 GMT 23:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقتدار کی منتقلی لمحہ بہ لمحہ

 اقتدار کی منتقلی لمحہ بہ لمحہ
اقتدار کی منتقلی یا دکھاوا
بغداد:: سوموار 28 جون 1400 جی ایم ٹی

ہمیشہ کی طرح آج بھی عام عراقی اپنی روزی روٹی کمانے کے خیالات اور امن و چین کی واپسی کے خوابوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ عراق میں اقتدار کا تبادلہ، دو دن پہلے ہی کر دیا گیا۔

بغداد کی گلیاں خاموش ہیں۔ کوئی جشن نہیں منا رہا اور نہ ہی کوئی جھنڈے یا پرچم دکھائی دے رہے ہیں۔

کچھ ایک جھنڈے گرین زون کی سرکاری عمارتوں پر لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

اقتدار کا تبادلہ خفیہ طور پر سحر ہونے سے پہلے کر دیا گیا تھا۔

جن عراقیوں سے میں ملا ان کے خواب بہت ہی سادہ تھے۔

ایک بزرگ عورت نے اپنے آنسو روکتے ہوئے مجھ سے کہا ’ میری دعا ہے کہ اس جنگ سے کچھ اچھا نتیجہ نکلے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان ہمارے ساتھ رہیں۔ ہم انہیں پھر سے مرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے‘۔

ایک اور عراقی کا کہنا تھا کہ یہ منتقلی ایک دکھاوے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ’ وزیراعظم امریکی حفاظت میں رہتے ہوئے آزادانہ فیصلے کیسے کر سکتا ہے؟‘

میں نے ایک نوجوان سے نئی حکومت کی بارے میں ان کی امیدوں کے کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ’ حکومت کو پھر سے مے خانے کھلنے کی اجازت دینی چاہئے۔‘

ایسا نہیں ہے کہ جو کچھ عراق میں ہو رہا ہے عراقی اسے نظرانداز کر رہے ہیں، مگر انہوں نے اپنی امیدوں کو قابو میں رکھنا سیکھ لیا ہے۔

بغداد:: اتوار 27 جون 1600 جی ایم ٹی

جب سے عراق پر امریکہ اور برطانیہ کا قبضہ ہوا ہے تب ہی سے گرین زون میں عبوری اتحادی انتظامیہ (سی پی اے) کے دفاتر امریکی دباؤ کی علامت بن گئے ہیں۔

اس ’زون‘ میں ایک سرکاری کانفرنس ہال، امریکی سفارتخانہ، اور صدام حسین کا ایک محل موجود تھے۔ اس محل کا عراق میں امریکی منتظم پال بریمر استعمال کر رہے ہیں۔

وہاں ایک چھوٹا بنگلہ بھی ہے جہاں صدام حسین کے مرحوم داماد حسین کمال رہا کرتے تھے۔ وہ 1995 میں اردن چلے گئے اور عراق کے فوجی راز مغربی ممالک پر افشاہ کر دیے۔ صدام نے انہیں واپسی پر معاف کرنے کا وعدہ کیا، مگر جب وہ لوٹ کر آئے تو انہیں اور ان کے بھائی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

یہ بنگلہ بعد میں عراقی گورننگ کونسل کا مرکز بن گیا۔

میں گرین زون گیا تھا۔ عراقی اسے طنزیہ طور پر ’سی آئی اے کی ریاست‘ کہتے ہیں۔

ہمیں بتایا گیا تھا کہ اقتدار کے تبادلے کے بعد گرین زون ٹریفک کے لیے کھول دیا جائےگا۔ میں نے سوچا تھا کہ وہاں موجود حفاظتی ناکے اور دیگر رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی۔ مگر اب تو اور بھی زیادہ چیک پواینٹس اور مسلح فوجی دکھائی دیتے ہیں۔

پھر میں نے سی پی اے کے ترجمان کو یہ کہتے سنا کہ امریکی سفارتخانہ اسی علاقے میں موجود رہے گا کیونکہ بغداد میں اور کہیں حفاظتی حالات ماکول نہیں ہیں۔

بغداد:: سنیچر 26 جون 1600 جی ایم ٹی

بغداد میں سفر کرنا آسان نہیں ہے۔ آج کل تو دھماکے اور کار بم بہت ہی عام ہو گئے ہیں اور کہیں بھی اور کبھی بھی ہو سکتے ہیں۔

بغداد کی راتیں بغداد کے دنوں کے مقابلے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ شاید اسی لیے کچھ عراقی اپنے خوف کی دیواریں توڑ کر اندھیرا ہوتے ہی گھروں سے باہر نکل آتے ہیں۔ شاید انہیں خطروں کی عادت ہو گئی ہے۔

میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ رات کا کھانا کھانے ال غوتہ ریستوراں گیا تھا۔وہاں میں نے کئی عراقی خاندانوں کو دیکھا۔

ان بچوں، عورتوں اور مردوں کو کھلے عام شام کا مزا لیتے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ شاید بغداد میں حالات معمول پر آنے لگے ہیں۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ حالات میں یہ بہتری آنے والے دنوں میں قائم رہتی ہے یا نہیں۔

بغداد:: جمعہ 25 جون 1400 جی ایم ٹی

جیسے جیسے اقتدار کے تبادلے کی تاریخ قریب آ تی جا رہی ہے، بغداد کی سڑکوں پر افواہیں اور تیز ہوتی جا رہی ہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ تبادلے کے بعد سارے ملک میں لوٹ مار شروع ہو جائےگی۔

کچھ لوگ لوٹ مار کرنے والوں کو پکڑنے اور مارنے کے لیے خصوصی دستوں کی بات بھی کرتے ہیں۔

عراق کی عبوری حکومت ان افواہوں کو روکنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کی کوشش یہ بھی ہے عراقی 30 جون کو آزادی اور خوشی کا دن منائیں۔

تمام عراقی اخباروں میں آج ایک اشتہار تھا جس پر لکھا تھا : ’ 30 جون کو ہم اپنا گھر واپس لیں گے‘۔

یہاں سب بےچینی سے اقتدار کے تبادلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

فی الحال اخبارات میں مبارکباد، حفاظتی انتظامات اور حملے سب ہی بڑھ گئے ہیں۔

مگر مجھے ایسا نہیں لگتا کہ عراقی واقعی خوش ہیں اور میں نہیں جانتا ایسا کیوں ہے۔

بغداد:: جمعرات 24 جون 1200 جی ایم ٹی

میں چھ مہینے بعد بغداد لوٹا ہوں۔

اردن کے دارالحکومت امان میں رات گزارنے کے بعد دن کے قریب بارہ بجے میں بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہوا۔

اس ہوائی اڈے پر اترنے والی یہ ایک ہی شہری پرواز ہے۔

ہوائی اڈے کے آس پاس امریکی افواج کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہوائی جہاز میں بیٹھے لوگوں میں صرف ایک عراقی خاندان ہے۔ میرے خیال میں وہ شاید اردن میں چھٹیاں منا کر واپس آ رہے تھے۔

باقی سب یا تو صحافی تھے یا پھر تاجر۔

دوران پرواز مجھے سب سے زیادہ ڈر تب لگا جب ہوائی جہاز زمین پر اترنے لگا۔ ہمارے پائلٹ نے ہمیں پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ لینڈنگ بہت اچانک ہوگی تاکہ ہم پر حملے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

ہوائی اڈے سے بی بی سی کے دفتر تک کے راستے میں دیواروں پر امریکہ، صدام اور بعث پارٹی کے خلاف نعرے لکھے ہوئے دکھائی دیے۔

جب میں بغداد پہنچا تو ہر طرف ایک ڈر سا پھیلا ہوا تھا۔ آج ہونے والے حملوں میں 85 سے زیادہ افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد