عراق میں انتقالِ اقتدار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی انتظامیہ نے پیر کے روز بغداد میں منعقد ہونے والی ایک سادہ سی تقریب میں ملک کی عبوری حکومت کو اقتدار منتقل کر دیا ہے۔ گزشتہ برس طے کیے گئے منصوبے کے مطابق امریکی حکام نے عراقی عوام کو خومختاری منتقل کرنے کے لیے تیس جون کی تاریخ مقرر کی تھی۔ تاہم اب یہ کام مقررہ تاریخ سے دو روز قبل ہی کر دیا گیا ہے۔ اس تقریب میں شرکت کرنے کے بعد امریکی منتظم پال بریمر نے عراق چھوڑ دیا ہے اور وہ بغداد ایئر پورٹ سے کسی نامعلوم مقام کی طرف پرواز کر گئے ہیں۔
عراق کے امریکی منتظم پال بریمر نے خودمختاری کی دستاویزات ایک عراقی جج کے سپرد کیے۔ پال بریمر نے کہا کہ عراق اب خود مختار ہونے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی افواج عراق کو آزاد کرانے ہی آئی تھیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اقتدار کی جلد منتقلی کا مقصد عراق میں شدت پسندوں کے حملوں کو روکنا ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل عراق کے عبوری وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نےکہا تھا کہ امریکی حکام تیس جون کے بجائے پیر کو ملکی اختیارات عراق کی عبوری حکومت کو منتقل کر رہے ہیں۔ ہوشیار زیباری نے نیٹو ممالک کی طرف سے عراق کی سیکیورٹی فورس کی تربیت کا وعدہ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے فرانس اور جرمنی کی طرف سے دی جانے والی اس تجویز کی تائید کی ہے کہ عراقی سیکیورٹی فورس کی تربیت کا کام عراق کے علاوہ کسی اور ملک میں کیا جائے۔ عراق کی عبوری حکومت کے حکام استنبول میں نیٹو ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں وہ عراق کی مزید مدد کرنے کی درخواست کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||