نئے دور کا آغاز کیا جائے، مقتدیٰ الصدر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے پہلی مرتبہ امریکہ کے اقتدار عبوری انتظامیہ کو منتقل کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ عراق میں حکومت بننے کے دو ہفتے بعد اپنی سوچ میں اس تبدیلی کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز کوفہ میں اپنے خطبہ میں کیا۔ آئینی شاہدوں کے مطابق مقتدیٰ الصدر نے جن کی حامی ملیشیا مارچ سے امریکی فوجوں کے ساتھ لڑ رہی تھی جھگڑا ختم کرنے اور ایک نئے دور کے آغاز پر زور دیا۔ مگر قریب ہی نجف میں ان کے حامی امریکہ کے ایک حمائتی گروہ کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ وائس آف مجاہدین ریڈیو کے ایک نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ مقتدیٰ الصدر نے عبوری حکومت سے کہا کہ وہ منصوبے کے مطابق عراق سے غیر ملکی قبضہ ختم کرنے کے لیے کوششیں کریں۔ شیعہ رہنما نے مزید کہا کہ حکومت سازی ایک اچھا موقعہ ہے کہ اختلافات پس پشت ڈال کر ایک متحد عراق کی بنیاد ڈالی جائے۔ مقتدیٰ الصدر کے کوفہ میں مصالحتی خطبہ پر ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل نہیں آیا۔ مقتدیٰ الصدر کے ساتھ بہتر حالات کی امید جمعہ کے روز بھی مبہم رہی ۔ جمعہ کے روز عراق کی سپریم کونسل فار اسلامک ریوولوشن کے سینکڑوں حامیوں نے جنگ بندی کی حمایت میں حضرت علی کے روضے کی طرف جلوس نکالا۔ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے جلوس کو آگے بڑھنے سے روکا۔اس دوران میزائل بھی استعمال کیے گئے۔جھگڑے میں کونسل کا ایک رہنما بھی زخمی ہوا۔ بدھ کی رات اور جمعرات کو بھی نجف میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں اور عراقی پولیس کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ یاد رہے کہ ایک ہفتہ پہلے ملیشیا اور امریکی فوج کے درمیان جنگ بندی کے بعد عراقی پولیس نے شہر میں گشت شروع کیا ہے۔ اس لڑائی میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے جن میں دو پولیس اہلکار، دو عام شہری اور ملیشیا کے جوان شامل ہیں۔ جنگ بندی کے بعد سے اب تک حضرت علی کے روضے کے گرد احاطے پر مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کا قبضہ ہے حالانکہ وہ شہر کے باقی علاقوں سے نکل چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||