مقتدی الصدرسےمعاہدے کےروشن امکان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں موجود امریکی فوج نجف میں مقتدیٰ الصدر کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لئے مذاکرات کی بظاہر حامی نظر آتی ہے۔ ایک سینئر عراقی اہلکار کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کی طرف سے سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا گیا لیکن دکھائی یہی دیتا ہے کہ امریکہ مقتدی الصدر کےجنگ بندی کے معاہدے کو قبول کر لے گا۔ مقتدی الصدر نے اس شرط پر اپنی مہدی آرمی کو ہٹانے کا کہا ہے اگر امریکی فوج پیچھے ہٹ جائیں اور ان کے خلاف قتل کی انکوائری ختم کر دی جائے۔ بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ماضی کے برعکس امریکہ اس مرتبہ مقتدیٰ الصدر کی پیشکش پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اصل میں امریکہ نجف کی صورتِ حال سے الجھا ہوا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تیس جون کو عراق میں اقتدار کی منتقلی سے قبل وہاں کے معاملات بہتر ہو جائیں۔ عراقی سلامتی کے مشیر موافق الربائی نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکی فوج اور اس کے اتحادی مقتدیٰ الصدر سے ہونے والے معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ انہوں نے کہا: ’اتحادی فوج نے اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات کی حمایت کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ معاہدے کا احترام کریں گے۔‘ موافق الربائی نے بتایا کہ معاہدہ الصدر اور عراقی گورننگ کونسل کے اراکین کے درمیان ہوا تھا اور اس کے تحت الصدر اپنے مزاحمت کاروں سے کہیں گے کہ وہ نجف سے باہر نکل جائیں جبکہ ملیشیا سے کہا جائے گا کہ وہ ہتھیار ڈال دے۔ مہدی آرمی کے مستقبل کا فیصلہ بھی بات چیت کے بعد ہی کیا جائے گا۔ اے ایف پی کے مطابق ایک سینئر امریکی کمانڈر نے کہا ہے کہ انہیں کافی امید ہے کہ الصدر اور اتحادی فوج کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ کہا کہ اتحادی فوج کے مطالبے کے تحت مہدی آرمی کا خاتمہ ضروری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||