کانفرنس میں مقتدی کو دعوت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اگلے مہینہ ایک قومی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے جس میں عراق کی عبوری حکومت کی مشاورت کے لئے ایک سو اراکین پر مشتمل ایک قومی کونسل منتخب کی جائے گی- اس کانفرنس میں ایک ہزار نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی جارہی ہے- کانفرنس کی تیاری کرنے والی کمیٹی نے امریکی مخالف شعیہ رہنما مقدی الصدر کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے۔ کمیٹی کے صدر فواد معصوم نے مقتدی الصدر کو مدعو کرنے کے فیصلہ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک مقتدی الصدر کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنی ملیشیا کو سیاسی تنظیم میں بدلنے کا عمل شروع کردیا ہے ’جسے ہم مثبت سمجھتے ہیں- ‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس امر کے باوجود کہ ان کی ملیشیا برقرار رہتی ہے یا نہیں الصدر ایک سیاسی قوت کے طور پر برقرار رہیں گے لہذا انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئ ہے-‘ مقتدی الصدر نے گذشتہ اپریل میں جب ان پر ایک شیعہ رہنما کے قتل کا الزام لگایا گیا تھا ، عراق میں قابض امریکی فوجوں کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی تھی۔ اس مہینہ کے اوائل میں اس بنا پر ان سے صلح کا سمجھوتہ ہوا تھا کہ وہ اپنی ملیشیا نجف اشرف سے واپسں بلالیں گے اور ان پر فی الحال شیعہ رہنما کے قتل کے الزام میں مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ اس دوران عراق کی عبوری انتظامیہ کے وزیر اعظم ایاد علاوی نے کہا ہے کہ اس ماہ کے آخر میں جب نئی عبوری حکومت اختیارات سبنھالے گی تو سیکورٹی دستوں کی تشکیل نو کی جائے گی تا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے بہتر حالات پیدا ہو سکیں - انہوں نے کہا کہ عراق کی سرحدی پولیس کو مضبوط بنایا جائے گا تا کہ باہر سے عراق میں آکر لڑنے والوں کو روکا جا سکے۔ ادھر عراق میں اتوار کو بھی کئی مقامات پر جھڑپیں ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ اتوار کو انبر کے قریب ایک امریکی میرین مارا گیا جبکہ سمارا میں مزاحمت کار عراقیوں اور امریکی فوج کے درمیان لڑائی میں آٹھ عراقی ہلاک ہوگئے جبکہ کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ایاد علاوی نے فالوجہ میں امریکی میزائل حملے کا دفاع کیا جس میں بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ انہوں نے وہی کہا جو گزشتہ روز امریکی فوج نے کہا تھا یعنی جس گھر کو نشانہ بنایا گیا اسے دہشت گرد استعمال کرتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||