عراق پر قرار داد، صدر بش پُرامید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر بش نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ عراق کے مستقبل پر اقوامِ متحدہ کی نئی قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور ہو جائے گی۔ ان کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ان ممالک نے بھی امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے پیش کی جانے والی قرار داد کی حمایت کا اعلان کیا ہے جو اس سے پہلے اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک نے کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل میں عراق کے مستقبل سے متعلق نئی قرارداد کی حمایت کریں گے۔ نئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں عراق میں کسی بڑے امریکی فوجی آپریشن سے پہلے عراق کی عبوری حکومت کی رائے لی جائےگی۔ قرار داد کی حمایت کا اعلان فرانس کے وزیر خارجہ مشل باغنیئے نے ایک فرانسیسی ریڈیو سٹیشن کو انٹرویو کے دوران کیا۔ نامہ نگاروں کے مطابق فرانس کے اس فیصلے سے عراق کے مستقبل کے بارے میں امریکہ اور برطانیہ کے منصوبوں کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے امریکہ اور برطانیہ نے فرانس کے اس مطالبے پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ مستقبل میں عراق میں کسی بڑے امریکی فوجی آپریشن پر عراق کی عبوری حکومت کی رائے لی جائےگی۔ اقوام متحدہ میں جرمنی کے سفیر نے کہا کہ وہ قرارداد میں ترمیم سے مطمئن ہیں۔ جرمنی اور الجیریا نے فرانس کی طرف سے ترمیم کی درخواست کی حمایت کی تھی۔ عراق پر پیش کی جانے والی قرارداد میں ترمیم کے بعد امریکہ کو امید ہے کہ رائے شماری کے بعد منگل کو یہ قرار داد منظور کرلی جائے گی۔ اس سے قبل قرار داد کے چوتھے مسودے میں عراق کو ویٹو کا حق نہیں دیا گیا تھا۔ سلامتی کونسل کے ارکان یہ مذاکرات بند دروازوں کے پیچھے ایک اجلاس میں کررہے ہیں۔ عراق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے لخدر براہیمی نے کہا ہے کہ عبوری حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد باقاعدہ انتخابات کرانے کے لئے کم از کم آٹھ ماہ درکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے ڈھانچے کو دوبارہ کھڑا کرنے میں کئی ماہ نہیں بلکہ کئی سال لگ جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||