عراق پر قرار داد، رائے دہی متوقع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک خصوصی اجلاس میں عراق سے متعلق قرارداد کے تیسرے مسودے پر غور کررہی ہے۔ سفارتکاروں کو امید ہے کہ امریکہ و برطانیہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے اس مسودے پر اتفاق کرلیا جائے گا۔ عراق اور امریکہ نے کچھ خطوط کا تبادلہ کیا ہے جن میں انہوں نے فوجی آپریشنز کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا عہد کیا ہے۔ یہ خطوط قرارداد کے ساتھ جوڑ دیے جائیں گے تاکہ عراق میں بین الاقوامی افواج کی حیثیت واضح ہوجائے۔ اس قرارداد پر جاری بحث کا زور و شور اس وقت ختم ہوا جب عراق کے عبوری رہنما نے یہ یقین دہانی کروائی کہ وہ ملک میں بیرونی افواج کی موجودگی کے حق میں ہیں۔ امریکی سفیر جان نیگروپونٹے نے امید ظاہر کی ہے کہ قرارداد پر رائے دہی آج ہوجائے گی۔ قرارداد پر بحث میں ایک معاملہ ابھی بھی کچھ سوال اٹھاتاہے اور وہ یہ کہ آیا عراق حساس فوجی آپریشن کے خلاف ویٹو کا استعمال کرنے کا حق رکھے گا۔ ماضی میں ایک کارروائی میں فلوجہ کے محاصرے کے دوران سینکڑوں عراقی ہلاک ہوئے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بغداد ایسے آپریشن رکوا سکے گا یا نہیں۔ ابھی تک عراق کے یہ اختیار رکھنے کا معاملہ مبہم ہے۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ عراق کو ویٹو کا حق دیا جائے اور نہ ہی کسی خط میں اس کا ذکر ہے۔ ان خطوط میں یہ بھی نہیں ہے کہ کیا امریکی عراق میں کیے جانے والی کارروائیوں کے لیے بغداد سے صلاح مشورہ کریں گے یا نہیں۔ امریکہ اور برطانیہ آج اس قرارداد کو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||