’حکومت کے پاس ویٹو نہیں ہوگا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ عراقی حکومت کو اقتدار کی منتقلی کے بعد بھی اتحادی فوج کی کارروائی کو ویٹو کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ سلامتی کونسل میں عراق پر نئی قرارداد پر بحث سے پہلے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اگرچہ تیس جون کے بعد عراق میں ایک آزاد اور خودمختار حکومت قائم ہو جائے گی لیکن اس کی سرزمین پر موجود امریکی اور برطانوی فوج ایک الگ کمانڈ کے ماتحت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کمانڈ کا یہ نیا ڈھانچہ دونوں ملکوں کی فوج کے درمیان رابطے کا کام بھی کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کا یہ بیان برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے اس بیان سے متصادم نظر آتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اتحادی فوج کو انفرادی کارروائیوں کے لئے عراقی حکومت سے منظوری لینا ہو گی۔ فرانس کے صدر ژاک شیراک نہ کہا ہے کہ عراق میں عبوری حکومت کے قیام سے متعلق نئی قرارداد پر مزید کام کی ضرورت ہے۔ عراق کے نو منتخب وزیر خارجہ ہوشیار زبیری سلامتی کونسل میں اپنے خطاب کے دوران نئی قرارداد کو بیان دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||