BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 June, 2004, 14:12 GMT 19:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مکمل خودمختاری ملنی چاہیے: علاوی
پچاچی، یاور
عراق میں عبوری حکومت کے نئے نامزد کئے گئے ارکان نے منگل کو بغداد میں منعقدہ ایک سادہ تقریب میں حلف اٹھا لیا ہے۔

حلف اٹھانے کے بعد عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی نے کہا ہے کہ وہ عراق کی آزادی اور خودمختاری کی بحالی کے لیے جلد اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عراقی عوام کو اقتدار کی منتقلی کے بعد بھی عراق کو اپنے دشمنوں کو شکست دینے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ضرورت رہے گی۔

تاہم انہوں نےعراقی عوام کو مکمل اقتدار منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس بات کو سلامتی کونسل کی نئی قرار داد میں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

اس سلسلے میں عبوری حکومت ہوشیار زیباری کو نیو یارک روانہ کر رہی ہے جہاں امریکہ اور برطانیہ سلامتی کونسل میں عراق کے بارے میں ایک نئی قرار داد پیش کرنے والے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ نئی قرار داد میں یہ بات واضح کی جائے گی کہ عراقی کی عبوری حکومت کو مکمل طور پر اقتدار منتقل کیا جائے اور اتحادی
فوج جون کی تیس تاریخ کے بعد عراقی عوام کی منشا سے عراق میں موجود رہے۔

عراق میں قائم ہونے والی عبوری حکومت کا اولین کام اگلے سال جنوری میں ملک میں عام انتخابات کرنا ہے۔

News image

گزشتہ برس جولائی میں قائم ہونے والی گورننگ کونسل کی غیر متوقع تحلیل کے بعد عبوری حکومت کو فوری طور پر ملک کا انتظام منتقل کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ چاہتا تھا کہ عبوری حکومت ماہرین ( ٹیکنو کریٹس) پر مشتمل ہو لیکن حلف اٹھانے والی حکومت میں بہت سے سیاست دان شامل ہیں اور وزیر اعظم ایاد علاوی کا شمار بھی ان ہی سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔

عبوری حکومت کی تشکیل میں امریکی انتظامیہ کو بھی کچھ لچک کا مظاہرہ کرنا پڑا ہے۔ امریکی انتظامیہ چاہتی تھی کہ عدنان پچاچی کو عبوری حکومت کا صدر نامزد کیا جائے اور ان کو اس عہدے کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔ تاہم عدنان پچاچی نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ان کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔

عدنان پچاچی کی جگہ عبوری حکومت کے اس اہم ترین عہدہ پر تحلیل ہونے والی گورننگ کونسل کے حمایت یافتہ امیدوار اور ایک اہم قبائلی رہنما غازی الیاور کو نامزد کر دیا گیا۔

غازی الیاور اپنا عہدہ اس ماہ کے آخر تک سنبھال لیں گے جب امریکہ کی اتحادی انتظامیہ اقتدار عراقی عوام کے حوالے کر دے گی۔

غازی الیاور نے تقریب حلف برداری کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین ترجیح عراق کو قاتلوں اور لٹیروں سے پاک ملک بنانا ہے۔

انہوں نے کہا وہ عراق کو ایک جمہوری اور وفاقی ملک بنانا چاہتے ہیں جو اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن اور تعاون کے ساتھ رہ سکے۔

عبوری حکومت کے صدر غازی الیاور پیشہ کے اعتبار سے انجنیئر ہیں۔ ان کا انتخاب گورننگ کونسل کے اصرار پر کیا گیا ہے۔

خیال کیا جاتا تھا کہ امریکہ کی سربراہی میں بننے والی گورننگ کونسل اپنے فرائض ماہِ رواں کے آخر تک سر انجام دے گی۔

عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی نے کہا کہ شعیہ رہنما عبدالمہدی ان کے وزیرِ خزانہ ہوں گے جبکہ کرد رہنما ہشیار زبیری بدستور وزیرِ خارجہ رہیں گے۔ ناظم الشالان کو وزیرِ دفاع بنایا گیا ہے اور فلاح النبی کو وزیرِ داخلہ۔

ادھر ایک سینئر امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ اتحادی انتظامیہ جون کے آخر تک صاحبِ اختیار رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد