علاوی کابینہ بنانے میں مصروف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں حکمراں کونسل کے نامزد کردہ عبوری وزیراعظم ایاد علاوی نے اپنی کابینہ کی تشکیل کے لئے بات چیت شروع کر دی ہے۔ کونسل نے توقع ظاہر کی ہے کے نئی عبوری حکومت میں شامل افراد کی فہرست اتوار کو مکمل ہوجائے گی۔ اس سے قبل امریکہ نے سابق جلاوطن رہنما ایاد علاوی کو عراق کی عبوری حکومت کا سربراہ نامزد کرنے پر گورننگ کونسل کو مبارکباد دی تھی۔ تاہم عراق کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لخدر براہیمی نے جن کے ذمہ عراق کی نئی عبوری حکومت کا چناؤ ہے ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے کہ آیا وہ مسٹر علاوی کو سربراہ حکومت کے طور پر قبول کریں گے یا نہیں۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے توقع ظاہر کی ہے کہ مسٹر علاوی ’ایک اچھے اور قابل‘ رہنما ثابت ہوں گے۔ لیکن امریکی وزیر خارجہ کالن پاول نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عراق میں تیس جون کو اقتدار کی منتقلی کے بعد نئی قیادت کے بارے میں حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لخدر براہیمی ملک کے صدر، دو نائب صدور اور وزراء کے عہدوں کی منظوری دیں گے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے علاوی کے چناؤ پر اپنے رد عمل میں صرف یہ کہا کہ وہ نامزدگی کا ’احترام‘ کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جون لین نے کہا کہ علاوی اقوامِ متحدہ کے عراق میں خصوصی ایلچی کی پہلی ترجیح نہیں تھے۔ براہیمی کے ترجمان نے کہا کہ ’وہ (براہیمی) فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور عبوری حکومت میں دوسری نامزدگیوں کے لئے وہ ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہیں‘۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ جب گورننگ کونسل نے علاوی کا انتخاب کیا تو براہیمی اس کمرے میں بھی موجود نہیں تھے۔ عراق کی عبوری حکمران کونسل کے ایک رکن محمد عثمان نے بتایا ہے کہ ان کا انتخاب اتفاق رائے سے عمل میں آیا۔ ایاد علاوی شیعہ فقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری طرف مسٹر علاوی کے ایک معاون کا کہنا تھا کہ ان کی نامزدگی کی منظوری اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے لخدر براہیمی نے بھی دیدی ہے۔ لخدر براہیمی عراق میں نئی حکومت کی تشکیل میں مصروف ہیں۔ مسٹر علاوی آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات تک ملک کا انتظام چلائیں گے۔ امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حکمراں کونسل کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ اس اجلاس میں عراق کے امریکی منتظم پال بریمر بھی موجود تھے جنہوں نے مسٹر علاوی کو مبارک باد دی۔ مسٹر علاوی نے برطانیہ سے نیورولاجی (دماغ و اعصاب) کی تعلیم حاصل کی اور ستر کی دہائی میں صدام حسین کی مخالفت مول لینے کے بعد جلاوطنی اختیار کر لی۔ جلا وطنی کے دوران سن اٹھہتر میں لندن میں مسٹر علاوی پر ناکام قاتلانہ حملہ ہوا تھا جو مبینہ طور پر عراق کے معزول صدر صدام حسین کے کہنے پر کیا گیا تھا۔ بعد میں انہوں نے عراقی نیشنل اکارڈ کے نام سے ایک پارٹی کی بنیاد رکھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||