قرارداد میں اظہارِ رائے کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی نئی عبوری حکومت مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں پیش کردہ قرار داد میں ان کی رائے بھی شامل ہونی چاہیے ۔ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے پیش کردہ قرار داد پر کئی ممالک نے اعتراض کیا ہے۔اور سیکورٹی کونسل جمعرات کو اس پر دوبارہ بحث کرنے والی ہے۔ عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زباری نے جو اس وقت نیویارک میں ہیں، نے کہا کہ عراق کی نئی عبوری حکومت یہ چاہے گی کہ عراق کے بارے میں قرار داد میں ان کا موقف بھی سنا جائے۔ اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا تھا کہ عراقی حکومت کو اقتدار کی منتقلی کے بعد بھی اتحادی فوج کی کارروائی کو ویٹو کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ امریکی وزیر خارجہ کا بیان برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے اس بیان سے بلکل متصادم ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اتحادی فوج کو انفرادی کارروائیوں کے لئے عراقی حکومت سے منظوری لینا ہو گی۔ یہ منصوبہ امریکہ اور برطانیہ نے پیش کیا ہے جس میں عراق سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کا ٹائم ٹیبل دیا گیا ہے۔ کئ ممالک کواعتراض ہے کہ اس منصوبے میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ عراقی حکومت کو اقتدار کی مکمل منتقلی کے بعد ان غیرملکی افواج کا کیا کردار ہوگا۔ سیکورٹی کونسل کے کئی ارکان نے اس قرارداد کے پہلے مسودے پر اعتراض کیا تھا کیونکہ اس میں عراقیوں کو فوجی معاملات میں اختیارات نہیں دئیے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||