امریکہ اپنا رویہ بدلے: لخدر براہیمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی لخدر براہیمی نے کہا ہے کہ اگر جون کے اختتام پر عراق میں اقتدار کی منتقلی کو مؤثر بنانا ہے تو امریکہ کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا۔ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے لخدر براہیمی نے کہا کہ عراق میں امریکہ کی نامزد کردہ پرانی گورننگ کونسل نے یہ تاثر دے رکھا تھا کہ وہ ملک کی مختارِ کل ہے جبکہ حقیقت میں سارا کنٹرول امریکی منتظم پال بریمر کے پاس تھا۔ لخدر براہیمی نے اس بات پر بھی معذرت چاہی کہ انہوں نے اس ہفتے پال بریمر کو عراق کا آمر کہا تھا۔ عراق میں عبوری حکومت کی تشکیل کے بعد لخدر براہیمی نے اپنے اس پہلے اہم انٹرویو میں بتایا کہ وہ خود بھی اس ماہ کے آخر میں اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ عراق میں اقوام متحدہ کے کردار میں تبدیلی آئے گی۔ اس سے پہلے امریکہ اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عراق کے بارے میں نظر ثانی شدہ قرار داد کا ایک نیا مسودہ پیش کیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اتحادی فوجیں عراقی حکومت کے کہنے پر ملک سے چلی جائیں گی۔ لیکن جو مسودہ اس سے پہلے پیش کیا گیا تھا اس میں یہ بات واضح طور پر نہیں کہی گئی تھی اور اس کا اطلاق نئی تشکیل شدہ عبوری حکومت پر نہیں ہوتا تھا۔ ایک اور وضاحت یہ بھی کی گئی کہ اگلے سال بننے والی حکومت ہی نہیں بلکہ عراق کی موجودہ عبوری انتظامیہ بھی عراق سے اتحادی افواج کی واپسی کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ سلامتی کونسل کے کچھ رکن ممالک نے جن میں فرانس، چین اور روس شامل ہیں، قرارداد کے پہلے دو مسودوں پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔ بی بی سی کی نامہ نگار سوزانہ پرائس کہتی ہیں کہ مستقبل قریب میں عراق کی عبوری انتظامیہ کی جانب سے اتحادی افواج کو نکل جانے کے لیے کہا جانا بعید از قیاس ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||