جہوریت کا راستہ کٹھن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے عبوری وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے پیر کی صبح یہ نوید سنائی تھی کہ امریکی انتظامیہ مقررہ تاریخ سے دو دن قبل ہی اقتدار عبوری حکومت کے حوالے کر رہے ہیں۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے تھوڑی دیر بعد ہی عراق میں ایک سادہ تقریب میں جسے آخری وقت تک خفیہ رکھا گیا امریکی منتظم پال بریمر نے چند لوگوں کی موجودگی میں انتقال اقتدار کی دستاویزات ایک عراقی جج کے حوالے کر دیں۔ یہ فریضہ انجام دینے کے بعد ہی وہ بغداد ائیر پورٹ سےنا معلوم مقام کی طرف پرواز کر گئے۔ گو کہ اقتدار عراق کی عبوری حکومت کے حوالے کر دیا گیا ہے لیکن عراق کی شاہراہوں اور گلی کوچوں میں عام آدمی کو پیش آنے والی مشکلات میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ بغداد میں موجود غیر ملکی اور بی بی سی کے نام نگار اپنے مراسلوں میں لکھ رہے ہیں کہ فوری طور پر اس اعلان سے عراق کے حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی رونما نہیں ہو نے والی۔ اس اعلان کے باوجود امریکی فوج اپنے اتحادی دستوں کے ساتھ عراق میں سیکیورٹی مہیا کرنے کی ذمہ داریاں نبھاتی رہے گی۔ انتقالِ اقتدار کے بعد یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ نئی عراقی حکومت اپنی کمزوریوں سے قطع نظر کس حد تک انتظامی معالات چلانے میں خود مختار ہو گی۔ عام تاثر یہی ہے کہ یہ رسمی طور پر اقتدار عراقی عوام کے حوالے کیا جا رہا ہے اور در پردہ امریکہ ہی عراقیوں کی قسمت کے فیصلے کرتا رہے گا۔ اس دن کے بعد اقوام متحدہ سے منظور شدہ پروگرام کے تحت عراق میں سن دو ہزار پانچ تک جہوری نظام قائم کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کیے جائیں گے۔ گو کہ یہ ایک بہت ہی مشکل ہدف ہے اور اس دوران ملک میں دو مرتبہ انتخابات ہونے ہیں اور ان انتخابات سے قبل انتخابی فہرستیں تیار کیے جانے کا کام مکمل کرنا باقی ہے۔ عراق میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے صاف اور شفاف ہونے کا انحصار بڑی حد تک ان انتخابی فہرستوں پر ہو گا۔ نامہ نگار وں کے مطابق ان سب باتوں کا انحصار عراق کی سیکیورٹی کی صورت حال پر ہے۔ انتقال اقتدار کے ساتھ ہی عراق میں ایک حملے میں ایک برطانوی فوج کو ہلاک کر دیا گیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں عراق میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی گو کے حالات سے سختی سے نمٹنے کی بات کر رہے ہیں لیکن عراقی فوج اور پولیس ابھی ان حالات پر پوری طرح قابو پانے کی پوزیشن میں نہیں۔ عام خیال یہی ہے کہ عبوری حکومت کو آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ جہوری نظام کی طرف جانے والا راستہ پر بہت سی مشکلات درپیش آ سکتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||