عراق میں امریکی تین سے پانچ سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق پر حملے کی قیادت کرنے والے امریکی جنرل نے کہا ہے کہ غیر ملکی فوجیں عراق میں مزید تین سے پانچ سال رہیں گی۔ ریٹائرڈ جنرل ٹومی فرینک نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں بتایا ہے کہ ان کے خیال میں عراقیوں کو بھی اپنے ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں خاصا وقت لگے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کو افغانستان میں بھی کم و بیش اتنا ہی عرصہ قیام کرنا ہو گا جتنا کہ عراق میں۔ ’میرا خیال ہے کہ عراق میں عراقیوں کو بھی تمام امور پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں جیسا کہ وہ چاہتے ہیں تین سے پانچ سال لگ جائیں گے۔‘ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عراق میں ہمیں فوجوں کو اسی تعداد میں رکھنا ہو گا جس تعداد میں وہ اب ہیں۔‘ ان کے مطابق اس وقت عراق میں کم وبیش دس ہزار برطانوی اور ایک لاکھ چالیس ہزار کے لگ بھگ امریکی فوجی ہیں۔ انہوں نے اس رائے کا اظہار بھی کیا کہ اب عراق اور افغانستان میں دہشت گردوں کا وجود باقی نہیں رہا۔ جنرل ٹومی فرینک نے صدر بش کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کڑے وقت میں ’انتہائی اچھی قیادت‘ فراہم کی۔ تاہم انہوں نے واشنگٹن بیوروکریسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات ایسے لگتا ہے جیسے ’بوری میں بند بلیاں لڑ رہی ہوں‘۔ ٹومی فرینک نے گزشتہ ہفتے ہی ’امریکی سیاہی‘ کے نام سے اپنی خود نوشت اور یادداشتیں جاری کی ہیں۔ پانچ سو نوے صفحات پر مشتمل یہ کتاب ان کے سیتیس سالہ کیریئر کا احاطہ کرتی ہے اور اس میں انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ معزول عراقی صدر صدام نے وسیع تباہی کہ ہتھیار استعمال کیوں نہیں کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ انہوں 11/9 سے چند روز قبل اپنے عملے سے اس خوف کا اظہار کیا تھا کہ نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دشتگردوں کا حملہ نہ ہو جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||