الصدر: مذہبی شخصیت، سیاسی کردار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام حسین کی شکست کے بعد سے اب تک سخت گیر شیعہ رہنما مقتدی الصدر نے عراق کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ تیس سالہ الصدر نے کئی بار عراق میں موجود غیر ملکی افواج کے خلاف قومی بغاوت کرنے پر زور دیا ہے اور اپنی حامی ملیشیا کو ’حملہ آوروں‘ اور عراقی پولیس کا مقابلہ کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے کچھ مواقع پر اپنے لیے نئے عراق کے سیاسی عمل میں جگہ بنانے کی بھی کوشش کی ہے۔ مقتدی الصدر عراقی قومیت اور مذہبی جذبات کو ملانے کی وجہ سے شیعہ آبادی کے غریب طبقے میں کافی مشہور ہوئے ہیں۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ الصدر ایک ناتجربہ کار اور سخت گیر ملا ہیں جو عراق کے مقدس شیعہ اداروں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ مقتدی الصدر اعلیٰ شعیہ ملا محمد صادق صدر کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ محمد صادق صدر 1999 میں صدام حکومت کے ایجنٹوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔ مارچ 2003 میں عراق پر اتحادی فوج کے حملے سے پہلے مقتدی الصدر کو عراق کے باہر بہت کم لوگ جانتے تھے مگر صدام حسین کی شکست کے بعد ان کی طاقت کا اندازہ ہونے لگا۔ عراق پر حملے کے بعد مقتدی الصدر کے حامیوں نے بغداد کے غریب شیعہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کی تھی اور بہت جلد بغداد کے شیعہ ضلعے کا نام ’صدام سٹی‘ سے بدل کر ’صدر سٹی‘ رکھ دیا گیا۔ جون 2003 میں الصدر نے نجف کے مقدس شہر کی حفاظت کے لیے’دی محدی آرمی‘ نامی ایک ملیشیا گروپ بنایا۔ انہوں نے ال حوزہ نامی اخبار نکالنا بھی شروع کیا۔ امریکی حکام نے مارچ2004 میں الصدر کے اخبار پر امریکہ کےخلاف تشدد اکسانے کا الزام لگایا اور اس پر پابندی عائد کر دی۔ تاہم جولائی 2004 میں عراق کی عبوری حکومت نے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے یہ پابندی ہٹا دی تھی۔ آیت اللہ علی سیستانی اور دیگر مذہبی رہنماؤں کے برعکس الصدر چاہتے ہیں کی مذہبی رہنما عراق کے سیاسی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ حال ہی میں ان کے موقف میں نرمی آئی تھی اور انہوں نے کچھ بیانات میں غیر ملکی افواج کے خلاف تشدد بند کرنے کی بھی بات کی تھی۔ جون میں ان کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ وہ جنوری میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنی سیاسی تنظیم بنانے پر غور کر رہے تھے۔ مگر جولائی میں الصدر کا رخ ایک بار پھر بدل گیا اور اپنے خطبے میں انہوں نے امریکہ اور عراق کی عبوری حکومت پر سخت تنقید کی۔ الصدر کے حامیوں نے قومی کونسل منتخب کرنے کے لیے اگست میں ہونے والی قومی کانفرنس میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو تنظیم ہزاروں عراقیوں کی نمائندگی کرتی ہے اسے صرف ایک سیٹ دینا صحیح نہیں ہے۔ دریں اثناء ایک عراقی جج نے اپریل 2003 میں شیعہ رہنما عبدل مجید الخوئی کے قتل کے سلسلے میں الصدر کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔ مقتدی الصدر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ الصدر نے صدام کی شکست کے بعد ایران کا دورہ بھی کیا تھا جہاں وہ اعلیٰ ایرانی اہلکاروں سے ملے تھے۔ الصدر کی مقبولیت کا دارومدار کافی حد تک غریب شیعہ عراقیوں کی حمایت پر ہے مگر کئی عراقی انہیں غیر ملکی قبضے کے خلاف عراقی مزاحمت کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے حامیوں میں سخت گیر سنی مسلمان بھی شامل ہوتے جا رہے ہیں مگر کئی شیعہ رہنما ان کے طریقۂ کار سے ناخوش ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||