’مفاہمت نہیں ہو سکتی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سخت گیر موقف رکھنے والے شعیہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے پیر کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراق میں امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرنے والوں کے ساتھ وہ کبھی صلح نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی نئی حکومت کے ساتھ ان کی کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی۔ اس سے پہلے مقتدیٰ الصدر نے عندیہ دیا تھا کہ عام معافی کی صورت میں ان کی ملیشیا ہتھیار ڈال دے گی۔ لیکن انہوں نے اس بیان سے یہ ظاہر کر دیا کہ اب اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس بیان کے چند گھنٹے بعد حکومت نے پھر اُس پریس کانفرنس کو ملتوی کر دیا جس میں ملک میں لاقانونیت سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا جانا تھا۔ شعیہ رہنما کا بیان نجف میں ان کے دفتر سے جاری کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اور ان کی مہدی فوج عراقی عوام سے یہ اعادہ کرتے ہیں کہ ’ آخری دم تک اس ظلم اور قبضے کی مخالفت کرتے رہیں گے۔مزاحمت ہمارا حق ہے کوئی جرم نہیں۔‘ صحافیوں نے بتایا ہے کہ ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ مقتدیٰ الصدر کا موقف کیوں تبدیل ہوا ہے اور نہ ہی یہ کہ حکومت نے اخباری کانفرنس کیوں ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||