انتخابات اور تشدد: عراقیوں کی رائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیس جنوری کو عراق کے اٹھارہ صوبوں میں انتخابات منعقد ہوں گے جہاں چار صوبوں میں تشدد زور پر ہے۔ انتخابات کے بارے میں عراقی شہریوں کی رائے بی بی سی عربِک ڈام کام کی مدد سے یہاں شائع کی جارہی ہے۔ زینا بغداد میں رہنے والی ایک ساٹھ سالہ خاتون ہیں۔ وہ چار بچوں کی ماں ہیں اور قومی اسمبلی کے لئے نیشنل ڈیموکریٹِک پارٹی کی امیدوار ہیں۔ ’ایک امیدوار کی حیثیت سے، میں بہت کچھ نہیں کرسکتی۔ میں اپنا پورا نام ظاہر کرنے سے خوفزدہ ہوں کیوں کہ اگر انتخابات کے مخالفین کو معلوم ہوگیا تو میرے گھر آسکتے ہیں اور ہمیں ہلاک کرسکتے ہیں۔ میں اجنبیوں کو یہ نہیں بتاسکتی کہ میں انتخاب میں حصہ لے رہی ہوں۔ ہماری جماعت نیشنل ڈیموکریٹِک پارٹی کے تین سو سے زائد اراکین اور تیس امیدوار ہیں جن میں سے آدھی خواتین ہیں۔ ابھی بغداد میں حالات کافی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ گیس یا بجلی تھوڑی ہی ہے اور ہمیں گھنٹوں اپنی کاروں کے لئے تھوڑی گیس کے لئے گھنٹوں قطار میں کھڑی ہونی پڑتی ہے۔ آپ کو معلوم ہی ہے کہ بغداد میں روزانہ بم دھماکے اور لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔
پورے بغداد میں آپ تمام اہم جماعتوں کے امیدواروں کے پوسٹر دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ان امیدواروں سے پرائیوٹ میٹنگ میں ملاقات بھی کرسکتے ہیں لیکن انہیں بھاری سکیورٹی ملی ہوئی ہے۔ آپ انہیں سڑکوں پر انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے، ووٹروں سے ملاقات کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ اس الیکشن میں امیدوار ہونا مشکل ہے۔ میں باہر جاتی ہوں اور لوگوں سے ملاقاتیں کرتی ہوں لیکن ان میں سے زیادہ تر میرے رشتہ دار، دوست یا ساتھی ہیں۔ میں امید کرتی ہوں کہ ووٹنگ کے دن کچھ برا نہ ہو۔ لوگ دعا کررہے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ میرے خیال میں یہ ان لوگوں کے لئے بھی مشکل ہوگا جو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ لوگ پولِنگ سٹیشنوں تک جانے سے خوفزدہ ہوں گے، اور انتخابی مہم کی جو مشکلات ہیں ان کی وجہ سے لوگ نہیں جانتے کہ ووٹ کس کو دینا ہے۔ لیکن میں اور میری فیملی کے تمام افراد ووٹ دیں گے۔ میں سمجھتی ہوں کہ بغداد کے مرکز میں جہاں ہم رہتے ہیں ووٹ دے سکتے ہیں۔ میں بےصبری سے ووٹ دینے کا انتظار کررہی ہوں۔ میں اپنے ملک کے لئے ایک بہتر مستقبل چاہتی ہوں اور اس سے مدد ملے گی۔ میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ سنی مسلمان بھی اپنے موقف میں تبدیلی کریں گے اور ووٹ دیں گے۔ وہ چاہتے ہیں لیکن انہیں ڈرایا جارہا ہے۔ اگر وہ ووٹ نہیں دیتے تو انہیں اقتدار میں نمائندگی نہیں حاصل ہوگی جس کی وجہ سے مشکلات پیدا ہوں گی۔ قاتلوں اور بمباروں کے خلاف اتحاد پورے عراق کے لئے ضروری ہے۔ جہاں تک امریکی فوجیوں کا سوال ہے، کچھ وقت کے لئے یہ صحیح ہے کہ وہ یہاں رہیں۔ ان کے بغیر حالات بدتر ہوں گے۔ لیکن بعد میں انہیں جانا ہوگا۔ میں ایک گھریلو عورت ہوں لیکن پہلے ایک لائبریرین ہوتی تھی۔ اگر میں منتخب ہوتی ہوں، تو میری ترجیح ہوگی کہ اپنے سماج میں بچوں کے حالات بہتر کرسکوں۔ اس وقت کم ہی بچے سکول جاتے ہیں یا کھیلنے کی کوئی ایسی جگہ جہاں وہ خود کو محفوظ سمجھیں۔ یہ میرا انتخابی وعدہ ہے کہ بچوں کی زندگی بہتر بناؤں۔‘ طارق الانی کی عمر چوالیس سال ہے۔ وہ قانون کے طالب علم ہیں اور مرکزی عراق میں رمادی سے پچاس کلومیٹر شمال مغرب میں ہیت میں رہتے ہیں۔ وہ سنی مسلم ہیں اور آٹھ بچوں کے والد ہیں۔ ’ کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے جہاں میں ہوں وہاں لوگ ووٹ نہیں دیں گے۔ ایک وجہ ہے سکیورٹی، لوگ خوفزدہ ہیں کہ پولنگ سٹیشنوں پر بم حملے ہوسکتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو لگتا ہے کہ انہیں ووٹِنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جنوب میں شیعہ لوگ ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ صدام حسین کے دور میں ان کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اور اب انہیں لگتا ہے کہ وہ الیکشن کے ذریعے اقتدار حاصل کرلیں گے۔ ووٹنگ کے دن میں گھر پر ہی رہوں گا، اپنی فیملی کے ساتھ۔ میرے خیال میں ہیت کے نوے فیصد لوگ یہی کریں گے۔ ہیت میں الیکشن کے بعد سب کچھ ٹھیک ہوگا، خانہ جنگی نہیں ہوگی، بڑے فوجی آپریشن نہیں ہوں گے۔ یہاں لوگ سب کچھ ٹھیک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس بات کا کوئی نشان نہیں کہ اس شہر میں الیکشن ہونے والا ہے، کوئی پوسٹر نہیں، کوئی الیکشن کے بارے میں بات نہیں کرتا۔ انتخابی مہم یا میٹنگ بھی نہیں ہورہی، نجی سطح پر بھی نہیں۔ یہ سب کچھ ہیت کے لوگوں کے لئے دور کی بات ہے۔ ہر جگہ حالات خراب ہیں۔ گیس جیسی روز مرُہ کی اشیاء کی کمی ہے۔ لوگوں کی اکثریت بےروزگار ہے۔ پھر بھی زندگی چلتی ہے۔ کچھ لوگ جرائم میں شامل ہیں، لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کے واقعات ہورہے ہیں۔
ہیت میں دن کے وقت گھر سے باہر نکلنا محفوظ ہے۔ لیکن سورج غروب ہوتے ہی حالات خطرناک ہونے لگتے ہیں۔ یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ خطرہ کہاں سے ہے، لیکن اندھادھند فائرنگ کی آوازیں سننے کو ملتی ہیں لیکن آپ کو یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ فائرنگ کون کررہا ہے۔یہ کافی عرصے سے ہورہا ہے۔ دن کے وقت آپ بازار جاسکتے ہیں، ڈرائیو کرسکتے ہیں، لیکن شام ڈھلتے ہی۔۔۔ جہاں تک پولیس کا سوال ہے تو وہ کچھ نہیں کریں گے اور کرسکتے بھی نہیں اور بیشتر اوقات وہ اپنی جان بچانے میں لگے رہتے ہیں۔ تشدد یہاں عام بات ہوگئی ہے۔ مجھے خود تعجب ہے کہ میری فیملی یہ سب کیسے برداشت کررہی ہے۔ اگر کوئی بڑا بم حملہ ہوتا ہے یا اگر امریکی فورسز بمباری کرتے ہیں تو ہم سب خوفزدہ محسوس کرتے ہیں۔ تاہم حالات پھر معمول پر لوٹ آتے ہیں۔ ہیت میں جو مسئلہ ہے وہ عراقی تارکین کا ہے۔ جب امریکیوں نے فلوجہ پر کارروائی کی تو بہت لوگ یہاں آگئے۔ ہیت کے لوگ فلوجہ پر کارروائی کے مخالف تھے اور انہوں نے فلوجہ کے لوگوں کو امداد فراہم کی۔ ہیت اور فلوجہ کے لوگوں کے درمیان خاندانی رشتے ہیں۔ اس وقت ہم فکرمند ہیں کہ امریکی فورسز یہاں بھی آسکتے ہیں۔ فلوجہ کے لگ بھگ ایک ہزار خاندان ابھی بھی یہاں ہیں اور ہم جو مدد کرسکتے ہیں کرتے ہیں۔ کچھ یہاں نوکریوں کی تلاش میں ہیں۔ وہ جلد فلوجہ واپس جانے کی نہیں سوچ رہے۔‘ ایلما ایک سینتالیس سالہ امریکی خاتون ہے جو شمالی شہر موصل کے قریب ایک امریکی کمپنی کے لئے کام کرتی ہیں۔ ’میں ایک امریکی عورت ہوں اور موصل سے اسی کلومیٹر جنوب میں قیارہ کے مقام پر کام کررہی ہوں۔ میں نے چھ ماہ موصل میں بھی گزارے۔ مجھے جنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ عراق آنے پر کن حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ میرے پاس ابھی بھی الفاظ نہیں کہ گزشتہ چند مہینوں کے حالات کو میں بیان کرسکوں۔ مجھ پر گولیوں کی بارش ہوئی ہے، میرے دوست مارے گئے ہیں، اور مجھے بہت کچھ دیکھنے کو ملا ہے جس کی میں توقع نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔
بہرحال، ان دنوں میں ملک کے ایک پرسکون علاقے میں ہوں، اس علاقے میں ایک طرح سے سکون ہی ہے، موصل کے جنوب میں۔ یہاں حملے نہیں ہوتے، یہاں کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ پھر بھی مجھ پر عیاں ہے کہ میں عراق میں ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ یہ ملک کتنا خطرناک ہوگیا ہے۔ میں حقیقت میں یہاں اطمینان کی سانس نہیں لےسکتی۔ مجھے معلوم ہے کہ میں نشانے پر ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ یہاں مستقبل تاریک ہے، ہم امریکیوں کے لئے، اور عراقیوں کے لئے۔ جب میں یہاں پہلے آئی تو عراقیوں سے ملی، ان سے گفتگو کرنے میں خوشی محسوس ہوئی، کچھ کے ساتھ دوستی بھی ہوگئی۔ لیکن کافی وقت گزر گیا ان سے ملے ہوئے۔ وہ مارے گئے ہیں، اغوا کرلیے گئے یا خود کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے غائب ہوگئے۔ میرے ارد گرد جو کچھ ہورہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ان حالات کے بارے میں میں غیرجانبدار نہیں ہوں، میں اس سب کا حصہ ہوں اور میں نے جو کچھ دیکھا ہے اسی کی بات کرسکتی ہوں۔ پریوں کی کہانیں کچھ ایسے شروع ہوتی ہیں ’ایک دفعہ کا ذکر ہے۔۔۔‘ اور کچھ ایسے ختم ہوتی ہیں ’ہمیشہ خوش رہ۔۔۔‘ لیکن یہ پریوں کی کہانی نہیں ہے، یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ میں کب جاگوں گی۔ اس الیکشن کو عراق کے لئے ایک ’تاریخ ساز موڑ‘ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے لیکن (پال بریمر کےتحت چلنے والی) عراق کی عبوری انتظامیہ کے خاتمے پر بھی یہی کہا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||