عراق: خون خرابے کی دھمکی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں انتخابات کے انعقاد کو ابھی ہفتہ بھر باقی ہے لیکن اب تک کئی اہلکار اور امیدوار قتل ہو چکے ہیں اور اب ابو مصعب الزرقاوی نے ایک اور دھمکی دی ہے۔ بغداد سے کیرولین ہاولے اور جان سمپسن نے اپنی رپورٹوں میں بتایا ہے کہ عراق انتہائی مطلوب شدت پسند رہنما ابو مصعب الزرقاوی نے اس دھمکی میں کہا ہے کہ عراق میں تیس جنوری کو ہونے والے انتخابات کو درہم برہم کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک اور اطلاع کے مطابق مزید چار سو برطانوی فوجی اس ماہ کے آخر تک بصرہ پہنچ رہے ہیں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انتخابات میں اضافی حفاظتی انتظامات کے لیے مدد دیں گے۔ کیرولین ہاولے کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے عراق میں انتخابی مہم کا خلاء دھمکیوں کی مہم پورا کرتی ہے۔ نئی انتخابی دھمکی ایک آڈیو ٹیپ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس صوتی پیغام میں انتِابات میں حصہ لینے والوں کو دھمکایا گیا اور ووٹنگ ڈالنے والوں کو کافر قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ انتخابی عمل کو عیاری کہا گیا ہے۔ ٹیپ میں سنائی دینے والی آواز انتخابت کے خلاف ایک انتہائی خونریز جدوجہد کی دھمکی دیتی ہے۔ ایک اسلامی ویب سائٹ پر موجود اس بیان میں فرقہ پرستی کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ ٹیپ میں سنائی دینے والی آواز انتخابات کو ایک ایسا جال قرار دیتی ہے جسے امریکہ شیعوں کو اقتدار سونپنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ عراق میں سنیوں کے مقابلے میں شیعہ اکثریت میں ہیں اور انہیں ان انتخابات سے خاصی امیدیں ہیں لیکن اب جب کہ خون خرابے کا امکان مزید بڑھ گیا دیکھنا یہ ہو گا کہ کتنے لوگ پولنگ اسٹیشنوں پر جا کر ووٹ ڈالتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ایک اہم مرحلہ یہ بھی ہو گا کس طرح بیلٹ بکس، بیلٹ پیپر اور دوسرا انتخابی سامان پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پولنگ کے بعد بیلٹ بکسوں کا بغداد لایا جانا بھی ایک بڑا مرحلہ ہو گا اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ انتخابی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد عراق میں یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا آپریشن ہے۔ ابو مصعب الزرقاوی اس سے پہلے عراق میں ہونے والے کئی بم دھماکوں اور سر قلم کرنے کی واقعات کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔ امریکہ نے الزرقاوی کے سر کی قیمت پچیس ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔ دوسری طرف عراق میں عبوری حکومت نے ملک میں تیس جنوری کو ہونے والے انتخابات کو پرامن رکھنے کے لیے ملک کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||