عراق: سیکیورٹی کا از سر نو جائزہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اپنے ایک ریٹائرڈ سینیئر جرنیل کو عراق بھیج رہا ہے تاکہ عراق میں جاری آپریشنز اور عراقی فورسز کی تربیت کا قریب سے جائزہ لے سکے۔ امریکہ کے ترجمان نے بتایا کہ جنرل گیری لک عراقی پولیس اور فوج کی تربیت کا جائزہ لیں گے۔مبصرین کے مطابق امریکہ عراقی فورسز کو تربیت دے کر نظم و نسق سنبھالنے کے قابل بنا کر اپنے فوجوں کو پیچھے ہٹانا چاہتا ہے لیکن اس میں اس کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ بی بی سی کے نک چائلڈ کا کہنا ہے کہ عراق میں سیکورٹی کے نظام کا جائزہ لینے کے ایک سینئیر جنرنیل کو عراق بھیجنے سے اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عراق میں حالات کس ڈگر پر جا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ ڈونلڈ رمزفیلڈ کے حکم پر جنرل لک اگلے ہفتے عراق جا رہے ہیں۔ پینٹاگون کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ عراق میں مزاحمت کار اب بموں کا استمعال کم کر رہے ہیں لیکن جو بم وہ استعمال کر رہے ہیں وہ زیادہ طاقت کے ہیں۔ برگیڈیر جنرل ڈیوڈ روڈرگویز نے بتایا عراق میں سات امریکی فوجیوں کے ہلاک ہونے کے بعد پریس کانفرنس کو بتایا ہے کہ عراقی مزاحمت کار اب زیادہ طاقتور بم استعمال کر رہے ہیں۔ جنرل گیری لک عراق میں عراقی فورسز کی تربیت کے عمل کا جائزہ لینے کے علاوہ امریکہ کے مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشنز کا بھی جائزہ لیں گے۔ پینٹاگون کے ترجمان بائرن وائیٹ مین نے کہا ہے کہ جنرل گیری لک کو اتحادی فوجیوں کے آپریشنز کا وسیع تجربہ حاصل ہے ۔ امریکہ کے اہلکار کھلے عام عراقی فورسز کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں۔ امریکہ عراقی فورسز کو آگے کر کے وہاں سے اپنی فوج کو ہٹانا چاہتا تھا لیکن وہ ایسا کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا ہے اور اس وقت بھی اس کی ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد فوج عراق میں رکھے پر مجبور ہے۔ عراق میں امریکی فوج کے اہلکار کے مطابق تیس ہزار مزید امریکی فوج کی عراق میں ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||