ناکام عراق، مغرب کیلئے سنگین نتائج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کے ایک با اثر تِھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر عراق ایک ’ناکام ریاست‘ کی مثال بن گیا یا پھر وہاں ڈکٹیٹر شپ قائم ہوگئی تو یہ مغرب کے لیے ایک بھیانک خواب کے مترادف ہوگا اور امریکہ کو ’ناقابل معافی حملہ آور‘ کے طور پر دیکھا جائے گا۔ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ عراق پر قبضے سے القاعدہ تنظیم کی بھرتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ لندن میں قائم ’انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز‘ نے اپنے سالانہ سروے میں کہا ہے کہ خطے میں امن اور عالمی نظام کے استحکام کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ امریکہ اور اس کے ساتھی عراق کے معاملے کو صحیح طور پر سلجھائیں۔ ادارے کے مطابق ’لوگوں کے دل جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ اپنے بارے میں پائے جانے والے تاثر کو بدلنے کی کوشش کرے کیونکہ امریکی طاقت کے بارے میں اس وقت لوگوں کا تصور نہایت خراب ہے‘۔ ’صدر بش کے اقتدار میں آنے کے بعد اور خصوصاً عراق پر قبضے کے بعد امریکہ کے بارے میں دنیا کا تاثر بہت بگڑ چکا ہے‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے مالی حالات اچھے ہیں اور افغانستان میں اپنے اڈے کی تباہی کے بعد یہ اب دوبارہ سے منظم ہوگئی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ القاعدہ کا جال ساٹھ سے زائد ممالک میں پھیلا ہوا ہے اور اب ان کا اڈہ کسی ایک مقام پر نہیں ہے بلکہ یہ مختلف علاقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ادارے کے مطابق تنظیم کے ارکان اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے اور یہ اپنے آپ کو منظر عام پر لائے بغیر اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ادارے نے تنبیہ کی ہے کہ القاعدہ یورپ اور شمالی امریکہ میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے اور یہ بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیار استعمال کرنا چاہتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||