امریکی فوجیوں کی بے حسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹیکساس کی ایک ملٹری کورٹ کو ایک عراقی شہری نے بتایا ہے کہ امریکی فوجیوں نے اسے اور اس کے ایک رشتہ دار کو دریائے دجلہ میں کودنے پر مجبور کردیا اور امریکی فوجی ہنستے رہے جبکہ اس کا رشتہ دار پانی میں ڈوب کر مررہا تھا۔ ماروان فاضل حسین نے عدالت کو بتایا: ’وہ میرا نام پکار رہا تھا، میری مدد کرو، میری مدد کرو۔‘ عراق کے شہر سمارہ میں تین جنوری کو پیش آنے والے اس واقعے پر چار امریکی فوجیوں پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ امریکی فوج کے تینتیس سالہ سرجنٹ ٹریسی پرکِنس پر کئی الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جارہا ہے جس میں دانستہ طور پر ہلاک کرنے کا الزام بھی ہے۔ فاضل حسین نے کہا کہ وہ اور ان کے رشتے کا بھائی بغداد سے سمارہ لکڑیوں کا سامان لیکر جارہے تھے جب امریکی فوجی ان تک پہنچے۔ انہیں بندوق کی نوک پر دریائے دجلہ تک لے جایا گیا۔ فاضل حسین نے مترجم کے ذریعے عدالت کو بتایا: ’میں نے ان سے منت کرنی شروع کردی کہ ہمیں سمندر میں مت پھینکو۔۔۔ ہم نے انگریزی میں کہا، پلیز، پلیز، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔‘ ’امریکی فوجیوں نے ہمیں اپنے رائفل کے نشانے پر رکھا ہوا تھا اور ہنس رہے تھے۔‘ فاضل حسین نے کہا کہ اس نے اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر بچانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ عدالت کو یہ لاش کی تصویر دکھائی گئی جس کے بارے میں فاضل کا کہنا ہے کہ دریائے دجلہ سے نکال کر دفن کردی گئی۔ ہلاک ہونے والے کے والد معمون حسون نے عدالت کو بتایا: ’میں نے آخری بار جب اپنے بیٹے کو دیکھا تو وہ مردہ تھا۔ امریکی فوجیوں کے وکیل نے کہا ہے کہ جو لاش کی تصویر دکھائی گئی ہے وہ صحیح نہیں ہے اور انہیں یقین ہے کہ دونوں شخص دریائے دجلہ سے باہر نکل آئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||