فلوجہ:ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج عراق میں جنگی جرائم کے ایک ممکنہ واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے جس میں امریکی مرینیز نے فلوجہ میں ایک شدید زخمی مزاحمت کار کو بالکل سامنے سے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ ٹی وی پر دکھائے جانےوالے ایک کلپ میں امریکی فوجیوں کو ایک عمارت میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا جہاں زخمی قیدی فرش پر پڑے ہوئے تھے ۔ یہ فلم فوج کے ساتھ چلنے والے این بی سی کے ایک رپورٹر نے بنائی تھی۔امریکی مرینز کی تھرڈ بٹالین کے ایک فوجی کو تاوقت فوجی ذمےداریاں نبھانے سے روک دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ اس فوجی کو اس سلسلے میں الزامات کا سامنا ہوگا۔ بی بی سی کے جیمز روبن کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور امریکی فوج کو اس سلسلے میں کئی سوالات کے جوابات دینے ہوں گے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ مرینز کا ایک گروپ مسجد کے نزدیک ایک عمارت میں داخل ہوا مزاحمت کار امریکی فوج پر حملے کرنے کے لئے اس مسجد کو استعمال کر رہے تھےامریکیوں نے مسجد پر حملہ کرکے دس شدت پسندوں کو ہلاک اور پانچ کو زخمی کر دیا عمارت کے اندر ایک کمرے میں کم از کم تین زخمی مزاحمت کار دکھائی دیے۔ این بی سی کے کیون سائٹ کا کہنا ہے کہ ایک امریکی فوجی نے زخمیوں میں سے ایک پرجو کہ ایک بوڑھا آدمی تھا بندوق تانی اور پھر گولی چلنے کی آواز آئی |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||