فالوجہ کے جنگجؤوں کو امریکی وارننگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ اگر فالوجہ میں عراقی جنگجؤوں نے جلد ہتھیار نہ ڈالے تو ان کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ لیفٹیننٹ جنرل جیمز کانوے نے کہا کہ پندرہ سو میرین پر مشتمل ان کی فوج نے دو سو کے قریب غیر ملکی جنگجؤوں کو فرار ہونے سے روکا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگجؤوں کے پاس ہفتے نہیں صرف دِن ہیں کیونکہ علاقے کی ناکہ بندی ہمیشہ نہیں چل سکتی۔ بدھ کے روز ہونے والی لڑائی کے بعد، جس میں انتالیس عراقی ہلاک ہو گئے تھے، بغداد کے مغرب سے مزید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔ بصرہ میں بدھ کے روز ہونے والے خوُد کش حملوں میں ہلاک ہونے والے اڑسٹھ افراد کے لواحقین غمزدہ ہیں۔ بصرہ میں تین تھانوں پر خود کش حملے برطانوی کنٹرول والے اس شہر میں اب تک کی سب سے خوفناک کارروائیاں ہیں۔ ان حملوں کے بعد سینکڑوں عراقیوں نے قابض افواج کے خلاف مظاہرہ کیا۔ دریں اثناء ایک ہزار امریکی فوجیوں پر مشتمل مزید کمک فالوجہ روانہ کر دی گئی ہے۔ پانچ اپریل کو شروع ہونے والی لڑائی کے بعد ہزاروں افراد فالوجہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ جنرل کانوے کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اور فالوجہ کی غیر فوجی قیادت کے درمیان ہونے والے معاہدے کا رد عمل مایوس کن تھا۔ امریکی صدر دفتر سےبی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی قیادت امید کر رہی ہے کہ جنگجؤوں کی طرف سے نیک نیتی کے ثبوت کے طور پر بھاری اسلحہ اور جدید بندوقیں جمع کروائی جائیں گی۔ جنرل کانوے کا کہنا تھا کہ جمعرات کو جمع کروایا جانے والے اسلحہ تو ایک پِک اپ ٹرک میں پورا آسکتا تھا اور وہ اس سے خوش نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||