فلوجہ کی جنگ بندی میں کیا ہوا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلوجہ میں امریکی فوج نے چار روز کی شدید لڑائی کے بعد ایک مختصر سے مہلت دینے کا اعلان کیا تھا تاکہ کھانے پینے کی اشیاء شہر میں لائی جا سکیں اور اگر عورتیں اور بچے وہاں سے نکلنا چاہیں تو نکل سکیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے نیڈ پارکر اس موقع پر فلوجہ میں تھے اور وہاں کا آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ جنگ بندی اتنی ہی جلدی ختم ہوئی جتنی جلدی اس کی اپیل کی گئی تھی۔ پارکر کے مطابق ’میں صبح صنعتی علاقے سے باہر تھا۔ بالکل اسی جگہ جہاں سے فلوجہ کا رہائشی حصہ شروع ہوتا ہے اور جہاں دونوں اطراف کے درمیان مسلسل فائرنگ ہو رہی ہے۔ یہیں پر ہمیں پتہ چلا کہ جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے۔‘ لیکن وہ کہتے ہیں ’جب میں کمانڈ بیس پر واپس آیا تو وہاں ایک امریکی لیفٹیننٹ کرنل نے بتایا کہ جب بندی ختم بھی ہوگئی ہے اور اب امریکی فوج دوبارہ کارروائی کے لئے روانہ ہو رہی ہے۔‘ پارکر کا کہنا تھا کہ عام لوگوں کے شہر چھوڑ کر جانے کے مسئلے میں کافی گڑ بڑ ہوگئی تھی۔ ’فالوجہ چھوڑ کر جانے کے لئے سینکڑوں کاریں قطار میں کھڑی تھیں جن میں عورتیں، بچے، بزرگ سبھی تھے اور یہ لوگ اپنے دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ شہر چھوڑ کر جانا چاہتے تھے۔‘ لیکن اس موقعے پر بقول پارکر کے امریکی فوجیوں کی طرف سے ایک اعلان کیا گیا اور وہ اعلان یہ تھا۔ ’عورتیں اور بچے اپنے اپنے گھر کے مردوں کو خدا حافظ کہہ لیں۔‘ پارکر بتاتے ہیں کہ یہ اعلان سن کر عورتوں نے رونا شروع کر دیا اور فوجیوں سے رو رو کر التجا کرنی شروع کر دی کہ وہ ان کے مردوں کو فلوجہ سے باہر جانے دیں۔ لیکن فوجیوں نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||