لڑائی میں چالیس عراقی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بعقوبہ میں جاری لڑائی میں کم از کم چالیس عراقی ہلاک ہو گئے ہیں۔ شہر میں تازہ جھڑپیں وقت شروع ہوئیں جب عراقی شورش پسندوں نے ایک عراقی تھانے، گورنر کے دفتر اور امریکی فوج کے ایک دفتر پر مربوط حملے کئے۔ اس کے بعد لڑائی بڑی تیزی سے پورے شہر میں پھیل گئی اور ایک موقع پر امریکی فوج نے ان سو کے قریب بندوق برداروں کے خلاف توپ خانے کا استعمال کیا جو ایک پل کے نزدیک اکٹھے ہوئے تھے۔ مقامی ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم گیارہ عام شہری بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف عراق میں امریکہ کی نامزد کردہ گورننگ کونسل کے ارکان اور فلوجہ میں مقامی رہنماؤں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ عراق کی گورننگ کونسل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کے ارکان کو اس بات پر شدید غصہ ہے کہ فلوجہ کی کارروائی اور امریکیوں کی شیعہ اور سنی مخالف کارروائیوں سے پہلے انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ عراق کی گورننگ کونسل نے مسائل کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ امریکی فوجی کمانڈر یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر فلوجہ پر قابض عراقی چاہیں تو وہ دو طرفہ جنگ بندی پر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں۔
اس سے پہلے جمعہ کے روز عراق کے عبوری وزیر عبدل باسط ترکی اور عراقی کی گورننگ کونسل کے رکن ایادسلاوی فلوجہ کے مسئلے پر استعفیٰ دے چکے ہیں۔ دریں اثنا فالوجہ میں امریکی فوج کے آپریشن کمانڈر جنرل کِمٹ نے کہا ہے کہ فالوجہ میں گرفتار ہونے والے مسلح افراد میں مصر، سوڈان اور شام سے تعلق رکھنے والے پانچ غیر ملکی جنگجؤ بھی شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||