فلوجہ میں جنگ بندی پر ’ابہام‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکومت کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد متضاد بیانات کی وجہ سے فلوجہ میں صورت حال ابہام کا شکار ہوگئی ہے۔ عراق کے امریکی منتظم پال بریمر نے جمعہ کے روز فلوجہ میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ فلوجہ میں محصور شورش پسند عراقیوں سے بات چیت کا آغاز کیا جا سکے۔ لیکن پال بریمر کے بیان کے ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی فلوجہ میں امریکی آپریشن کمانڈر بریگیڈیئر جنرل مارک کمٹ نے اعلان کیا کہ بات چیت میں ناکامی کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ آپریشن کمانڈر کے بیان کے تھوڑی دیر بعد ہی ایک امریکی جنرل نے کہا کہ جنگ بندی ابھی تک برقرار ہے۔ دریں اثناء عراق کے کئی دیگر شہروں سے لڑائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بغداد کے شمال میں واقع شہر باقوبہ میں ایک بار پھر امریکی فوج اور شورش پسند عراقیوں کے مابین جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرق میں واقع قصبے کُت کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لئے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ کربلا میں کم از کم چار افراد اس وقت ہلاک ہو گئے جب پولینڈ اور بلغاریہ کے فوجیوں اور شیعہ دستوں کے مابین تصادم ہوا۔ شیعہ مسلمان اتحادی افواج سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ چہلم کے پیش نظر کربلا کے باہر چلی جائیں۔ دوسری طرف عراق میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے ایک سال بعد امریکی قیادت میں لڑنے والی اتحادی افواج کو فلوجہ اور کربلا میں مزاحمت کا سامنا ہے جبکہ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ تین شہر ان کے قبضے میں نہیں رہے۔ امریکہ کے مطابق جمعرات کی رات تک اس ہفتے شروع ہونے والی جھڑپوں کے دوران اس کے چالیس فوجی ہلاک ہو چکے تھے۔
اطلاعات کے مطابق عراق میں شدید ترین لڑائی بغداد کے مغربی شہر فلوجہ میں ہو رہی ہے جہاں امریکی افواج کو سنی جنگجؤوں کی مزاحمت کی وجہ سے جمعرات کو مزید کمک منگوانی پڑی تھی اور ہسپتال کے ذرائع کے مطابق اس لڑائی میں کم از کم تین سو عراقی مارے جا چکے ہیں۔ امریکیوں کا کہنا کہ ملک کے جنوب میں نجف اور کوفہ سمیت تین مقامات پر اب ان کا قبضہ نہیں رہا۔ عراق میں اس پیش رفت سے امریکہ کے اتحادی زیادہ سے زیادہ پریشان نظر آ رہے ہیں۔ ملک میں لڑائی کے پھیلنے سے مختلف ممالک کے دستے اس کی زد میں آ رہے ہیں۔
یوکرین کے دستوں نے بغداد کے جنوب مشرق میں بدھ کے روز مقتدٰی الصدر کے حامیوں کے حملے کے بعد ایک علاقہ خالی کر دیا تھا اور وہاں سے ہٹ گئے تھے۔ عراق میں افواج بھیجنے والے ممالک کی حکومتوں نے عراق کے مِشن کے لئے اپنی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے لیکن ان کے ہاں عوامی سطح پر ان کی پالیسی کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔ امریکہ نے عراق کی کارروائی کے لئے چالیس ممالک کو اپنے شہری وہاں بھیجنے پر آمادہ کر لیا تھا۔ ان میں سے کچھ ممالک نے واشنگٹن کو خوش کرنے کے لئے، کچھ نے اپنی حمایت کے اظہار کے لئے اور کچھ نے دیگر سیاسی وجوہ کی بنیاد پر اپنے فوجی وہاں روانہ کئے تھے۔ امریکہ کے ان ’اتحادیوں‘ کا خیال تھا کہ انہیں زیادہ شدید لڑائی میں الجھنا نہیں پڑے گا اور اپنے عوام کو انہوں نے یہ کہہ کر مطمئن کر دیا تھا کہ ان کے ملک سے دستے انسانی حقوق اور تعمیر نو کے لئے عراق جا رہے ہیں۔ لیکن مقتدٰی الصدر کی مسلح بغاوت نے ان تمام توقعات پر پانی پھیر دیا ہے۔ امریکہ کہ ان اتحادیوں کو ملک کے جنوب میں کئی شیعہ علاقوں میں لڑائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بلغاریہ اور پولینڈ کے فوجیوں کی کربلا میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ہسپانوی فوجیوں نے نجف میں اور اطالوی فوجیوں نے ناصریہ میں لڑائی دیکھی ہے۔
عراق کے دوسرے حصوں میں جاپان کے پانچ سو افراد پر مشتمل غیر لڑاکا دستے اور جنوبی کوریا کے اتنے ہی فوجیوں نے اپنی فوجی کیپموں سے باہر تمام کارروائیاں بند کر دی ہیں۔ جاپان کا کہنا ہے کہ ’دہشت گرد‘ انہیں ملک سے نکالنا چاہتے ہیں۔ قازقستان واحد ملک ہے جس نے باضابطہ طور پر اپنے فوجیوں کی واپسی کا اعلان کیا ہے۔ اطالوی، آسٹریلوی اور پولینڈ کی حکومتوں کی طرف سے عراق میں کارروائی جاری رکھنے کے اعلان کے باوجود ان ممالک میں اس مِشن کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ممالک نے بڑی تعداد میں فوجی نہیں بھیجے اور ان کی واپسی سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ برطانیہ کے علاوہ صرف چند ممالک نے ایک ہزار سے زیادہ فوجی بھیجے ہیں۔ ہسپانیہ میں حال ہی میں منتخب ہونے والی نئی سوشلسٹ حکومت کہہ چکی کہ اگر جون تک اقوام متحدہ نے عراق میں ذمہ داری نہیں سنبھالی تو وہ اپنی افواج واپس بلا لے گی۔ زیادہ تر غیر امریکی دستوں کو عراق کے جنوب میں شیعہ علاقوں کو محفوظ سمجھتے ہوئے وہاں بھیجا گیا تھا لیکن بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر امریکہ کو تمام حکمت عملی تبدیل کرنی پڑے گی۔ نئے حالات میں مختلف ممالک کی طرف سے اپنی افواج کی واپسی کے سیاسی مضمرات ہوں گے۔ اس سے یہ تاثر ملے گا کہ عراق پر حملہ صرف امریکہ اور صدر بُش کا مسئلہ تھا۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ کے کردار کا مطالبہ زور پکڑے گا جو امریکہ اور برطانیہ میں رائے عامہ پر اثر انداز ہوگا اور اس سے صدر جارج بُش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی سیاسی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||