فلوجہ پر کنٹرول کے لئے کمک طلب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتحادی فوجی عراق کے شہر فلوجہ میں جہاں گزشتہ چند روز سے شدید لڑائی جاری ہے، اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے صورتِ حال پر قابو پانے کے لئے مزید کمک طلب کی ہے۔ جہاں جہاں اتحاد مخالف جنگجو برسرِ پیکار ہیں وہاں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ہسپتالوں میں اور سڑکوں پر لاشیں بکھری پڑی ہیں جبکہ جگہ جگہ طبی امداد کی فراہمی کے لئے عارضی کلینک قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم یہاں ادویات کی بہت کمی ہے۔ ہسپتالوں کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ فلوجہ میں تازہ کارروائی کے دوران لگ بھگ تین سو عراقی مارے جا چکے ہیں۔ تاہم دیگر ذرائع سے ان خبروں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ادھر ریڈ کراس نے کہا ہے کہ اسے عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد سے تشویش ہے اور اس نے لڑائی میں مصروف فوج اور مسلح گروہوں پر زور دیا ہے کہ وہ عام شہریوں کا احترام کریں اور زخمیوں کو طبی امداد حاصل کرنے میں مدد فراہم کریں۔ ادھر اتحاد مخالف جنگجوؤں نے کئی غیر ملکیوں کو یرغمال بنا لیا ہے جن میں تین جاپانی شہری اور ایک کینڈا کا رہنے والا شامل ہیں۔ جاپانی باشندوں کو یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر جاپان نے تین روز کے اندر اندر عراق سے اپنی فوج واپس نہ بلائی تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ تاہم جاپان کی حکومت نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ جاپان کی فوج عراق سے واپس بلا لی جائے۔ ایک عرب باشندے اور کینڈا کے اس شہری کے بارے میں جس کی جائے پیدائش شام ہے، اتحاد مخالف جنگجوؤں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔ کینڈا کے وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی شہری کی رہائی کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ اتحاد مخالفوں نے تین فلسطینیوں کو بھی اسرائیلی ایجنٹ قرار دے کر یرغمال بنا رکھا ہے۔ تاہم اسرائیل کی حکومت نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا نے اپنے شہریوں کے عراق جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||