عراق میں اب تک سینکڑوں ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکہ کی تازہ فوجی کارروائی کے بعد گزشتہ چار روز کے دوران ایک سو عراقی ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکی فوج نے تازہ حملوں کا سلسلہ گزشتہ پیر سے شروع کیا تھا اور مختلف شہروں میں اب بھی پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ عراق میں امریکی فوج کے سربراہ ریکارڈو سانچیز کا کہنا ہے کہ فوج نے اب بھی فلوجہ کا محاصرہ کررکھا ہے۔ امریکی فوجی فلوجہ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے ابھی بھی برسر پیکار ہیں۔ شدید ترین لڑائی فلوجہ ہی میں ہوئی ہے گو دیگر شہروں سے بھی جھڑپوں اور ہلاکتوں کی خبریں ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ فلوجہ شہر کی گلیوں میں عراقیوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ ہسپتال کے ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں عراق میں تین سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ چار سو سے زائد زخمی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق بدھ کو فلوجہ میں ایک مسجد پر امریکی فضائیہ کے حملے میں پینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے میں صرف ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ جنرل سانچیز کا اصرار ہے کہ فلوجہ کے شہریوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ باغیوں کے ساتھ ہیں یا فوج کے ساتھ۔ جنرل سانچیز نے کہا ہے کہ فلوجہ میں امدادی سامان بھیجنے کے لیے اننتظامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے عہد کیا ہے کہ شیعہ عسکریت پسندوں کے زیر انتظام شہر کُت پر بھی جلد ہی کنٹرول حاصل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے نجف میں بھی فوج کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ بغداد کے مقامی افراد فلوجہ کے متاثرین کو خون عطیہ کرنے اور خوراک اور دیگر امدادی سامان دینے قطار در قطار جمع ہورہے ہیں۔ جمعرات کو بغداد کے مغرب میں ایک امریکی فوجی قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے بعد کئی گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔ چند ہی گھنٹے قبل علاقے میں امریکی فوجی عراق کے شیعہ اور سنی گروہوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ اس تازہ حملے کی تصدیق امریکی فوجی ذرائع نے اب تک نہیں کی ہے۔ امریکی فوج کے ایک اعلٰی اہلکار نے کہا ہے کہ ملک میں اتحادی افواج اس وقت تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی جب تک باغیوں کو شکست نہیں ہوتی۔ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والی یہ شدید ترین جھڑپیں ہیں۔ ان جھڑپوں میں تیس اتحادی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||