BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 April, 2004, 19:17 GMT 00:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق کا لشکرِ مہدی کیا ہے؟

عراق میں مسلح گروپ
امام مہدی ( جن کے آنے کا انتظار ہے) کے نام پر قائم اس تنظیم کے ارکان اپنے قائد کے ساتھ انتہائی مخلص ہیں۔
عراق کے لشکرِ مہدی کے اراکین کی تعداد شاید چند ہزار سے زیادہ نہیں ہے لیکن اس کی قوت کا اندازہ شیعہ اکثریت کے علاقوں میں مسلح جدوجہد کی شدت سے لگایا جا سکتا ہے۔

لشکِر مہدی 2003 کے موسم گرما میں شیعہ مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کے خطبے کے بعد وجود میں آیا جس میں انھوں نے ایسے ہی ایک لشکر کے قیام پر زور دیا تھا جس کا مقصد شیعہ عقائد کو بچانا اور امریکی قیادت میں سرگرداں اتحادی فوج کے تسلط سے ملک کو آزاد کرانا تھا۔

اس کے بعد مساجد سے ملحقہ دفاتر میں نوجوان عراقیوں کو بھرتی کیا گیا۔

گزشتہ ایک سال سے یہ لشکر اپنی تعداد بڑھانے کے علاوہ اتحادیوں کے خلاف نفرت بھی پھیلا رہا ہے۔ قبل ازیں عراقی شیعہ اتحاد نے صدام کو نکال پھینکنے کی حمایت کی تھی۔

صدام حسین نے شیعہ عقائد پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ بی بی سی نیوز آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے واروک یونیورسٹی کے ڈاکٹر ٹوبی ڈوج نے کہا کہ’اس لشکر میں شمولیت کی اپیل قصبات کے ان نوجوانوں کے لئے باعث کشش تھی جن تک عراق کی آزادی کا ثمر نہیں پہنچا۔‘

امام مہدی ( جن کے آنے کا انتظار ہے) کے نام پر قائم اس تنظیم کے ارکان اپنے قائد کے ساتھ انتہائی مخلص ہیں۔

گزشتہ جولائی میں ’فنانشل ٹائمز‘ سے بغداد میں گفتگو کرتے ہوئے قاسم رسان نامی ایک رضاکار نے کہا تھا ’میں نہیں جانتا کہ لشکر کا مقصد کیا ہے یا ہمیں کب لڑنا ہے لیکن میں صدر کے تمام احکامات کی تعمیل کروں گا۔‘

عراق میں مسلح گروپ
’ لشکر اپنی تعداد بڑھانے کے علاوہ اتحادیوں کے خلاف نفرت بھی پھیلا رہا ہے۔ ‘

لشکر مہدی کی موجودگی کا احساس اس وقت ہوا جب اس کے کارکن رواں ہفتے میں اتحادی افواج پر حملہ آور ہوئے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ نجف اور بغداد کی گلیوں میں لڑنے والے تمام افراد اس لشکر کے رکن نہ ہوں۔

موجودہ حملوں میں دستی بم، گرنیڈ اور کلاشنکوف جیسا اسلحہ استعمال ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر ڈاج کے مطابق عراق جیسے ملک میں جہاں کا ہر فرد فوجی تربیت رکھتا ہےاسلحے کی فراوانی ہے۔

لشکر مہدی پہلی منظم تنظیم ہے جو شیعہ علاقوں میں شورش کا باعث بنی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے اراکین کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے اور ڈاکٹر ڈاج کے بقول تعداد اس سے کہیں کم ہے۔تاہم بی بی سی کے پال وڈ کے مطابق مقتدیٰ الصدر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں پندرہ فیصد شیعہ آبادی کی حمایت حاصل ہے۔

گو کہ لشکر مہدی اور اتحادی فوج کے درمیان جھڑپیں اسی ماہ شروع ہوئی ہیں لیکن اس کے قیام کے وقت سے ہی اس کے ارکان کو معلوم تھا کہ انہیں بالآخر امریکیوں کے مد مقابل آنا ہے۔

ایک ستائیس سالہ رضاکار محمد عباس کا کہنا ہے کہ ’ انشاء اللہ ہم امریکیوں، اسرائیلیوں اور لا دینیوں سے جلد نجات حاصل کر لیں گے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد