BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 April, 2004, 02:49 GMT 07:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اتحادی سربراہوں کوصدر بش کےفون
News image
عراق میں صدام حکومت ختم ہوئے ایک سال مکمل ہونے پر عراق میں لڑائی جاری ہے اور وہاں شروع ہونے والی مزاحمت اور اسے کچلنے کی امریکی پالیسی نے اتحادی ممالک کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

فلوجہ شہر سےجہاں امریکی فوج نے عارضی طور پر لڑائی روک دی تھی، رات گئے پھر فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات ملی ہیں۔ تازہ خبروں کے مطابق امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں سے زبردست بمباری کی گئی ہے۔

کوفہ اور نجف میں تین عراقیوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے جبکہ شمالی شہر موصل میں بھی جھڑپوں کی اطلاع ملی ہے۔بغداد میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

مختلف عراقی شہروں میں لڑائی میں شدت کے باعث نہ صرف امریکی پالیسی پر عراق کے اندر اور باہر سے تنقید کی گئی ہے بلکہ اتحادی ممالک وہاں کی صورتِ حال سے تشویش میں مبتلا ہیں۔

خود عراق کی حکمراں کونسل کے دو ارکان نے فلوجہ میں امریکی طاقت کے استعمال کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ روس نے کہا ہے کہ امریکہ نے طاقت کا غیر متوازن استعمال کیا ہے۔

اس سلسلے میں صدر جارج بش نے اتحادی ممالک کے سربراہوں سے بات چیت کی ہے جو مبصرین کے بقول اتحاد میں ممکنہ دراڑوں کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔

ادھر برطانوی وزیرِ خارجہ جیک سٹرا کے بیان کے بعد کہ عراق میں اتحادی افواج کے خلاف مزاحمت کافی سخت ہے، امریکہ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ عراقیوں کی ’بغاوت‘ توقع کے برخلاف شدید ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ عراق میں موجود امریکی فوج کو کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ عراقیوں کو اس سال جون میں خود مختاری لوٹا دینے کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

صدر بش کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ انہوں نے سپین، پولینڈ اور ال سیلواڈور کے رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور عراقی مزاحمت پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔ ان تینوں ممالک کی افواج اتحادی فوج کا ایک حصہ ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صدر بش کو یہ فکر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اتحادی عراق سے اپنی فوجیں واپس بلانا شروع کر دیں۔

ادھر شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے کہا ہے کہ عراق کے عوام امریکی صدر کی مخالفت پر آمادہ ہوگئے ہیں اور انقلاب سے بچنے کے لئے امریکہ کو چاہیئے کہ وہ عراق سے باہر چلا جائے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد